صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر الخبر الدال على أن الذمي إذا أحيى أرضا ميتة لم تكن له-
- یہ خبر جو واضح کرتی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم (ذمی) مردہ زمین کو آباد کرے تو وہ اس کا مالک نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 5205
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمَّا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي هَذَا الْخَبَرِ وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، كَانَ فِيهِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْخِطَابَ وَرَدَ فِي هَذَا الْخَبَرِ لِلْمُسْلِمِينَ دُونَ غَيْرِهِمْ، وَأَنَّ الذِّمِّيَّ لَمْ يَقَعْ خِطَابُ الْخَبَرِ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ إِذَا أَحْيَى الْمَوَاتَ لَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، إِذِ الصَّدَقَةُ لا تَكُونُ إِلا لِلْمُسْلِمِينَ. وَقَدْ سَمِعَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ وَطُلابُ الرِّزْقِ يُسَمَّوْنَ الْعَافِيَةَ. قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے وہ اس کی ملکیت ہوتی ہے، اس میں سے جو بھی جانور وغیرہ جو کچھ کھا لیتا ہے یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہوگی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں یہ فرما دیا: ”اس میں سے جو بھی جانور وغیرہ کچھ کھا لیتا ہے تو یہ اس کے حق میں صدقہ ہوگا“ تو اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ اس روایت میں موجود حکم مسلمانوں کے لیے ہے دوسروں کے لیے نہیں ہے، اور اس روایت کا حکم ذمیوں پر لاگو نہیں ہوگا کہ اگر وہ کسی بنجر زمین کو آباد کر لیتے ہیں تو وہ ان کی ملکیت نہیں ہوگی کیونکہ صدقہ صرف مسلمانوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ ہشام بن عروہ نے یہ روایت وہب بن کیسان سے سنی ہے اور عبداللہ بن عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ رزق کے طلب گاروں کے لیے لفظ «عَافِيَة» استعمال ہوتا ہے (جو اس حدیث میں استعمال ہوا ہے) یہ بات امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إحياء الموات/حدیث: 5205]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5202، 5203، 5204، 5205، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1379، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11932، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14492» «رقم طبعة با وزير 5182»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5205 in Urdu
وهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري