صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. باب آداب الأكل - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به موسى الجهني-
کھانے کے آداب کا بیان - یہ خبر مدحض کہ موسى الجهني نے اس کی تفرد کیا
حدیث نمبر: 5214
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّمَرْقَنْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ سَمَّى بِاللَّهِ لَكَفَاكُمْ، فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا، فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَإِنْ نَسِيَ فَي أَوَّلِهِ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھ آدمیوں کے ہمراہ کھانا کھا رہے تھے۔ اسی دوران ایک دیہاتی آیا اس نے دو لقمے لئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے بسم اللہ پڑھ لی ہوتی تو یہ کھانا تم سب کے لئے کافی ہوتا جب کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اللہ کا نام لے لینا چاہئے اور اگر وہ اس کے آغاز میں اللہ کا نام لینا بھول جاتا ہے تو پھر یہ پڑھنا چاہئے۔ ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس کے آغاز میں بھی اور آخر میں بھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5214]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5191»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (1965).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عبيد الليثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق