صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
52. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الخبر الدال على أن ما قذفه البحر مما لا يعيش إلا فيه حوت كله وإن كانت خلقها متباينة لخلقة الحوت-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ خبر کہ سمندر سے حاصل شدہ چیز جو صرف سمندر میں زندہ رہتی ہے، حلال ہے، چاہے شکل مچھلی سے مختلف ہو
حدیث نمبر: 5261
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً، فَلَمَّا نَفَذَتْ أَزْوَادُهُمْ، أَمَرَ أَمِيرُهُمْ بِمَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ، فَجُمِعَتْ، فَجَعَلَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةً تَمْرَةً، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهَا فُقِدَتْ، فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا، كَانَ أَحَدُنَا يَضَعُهَا بَيْنَ أَسْنَانِهِ وَحَنَكِهِ فَيَمُصُّهَا، وَنُصِيبُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ، وَنَبَاتِ الأَرْضِ مَعَ ذَلِكَ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ لَنَا حُوتًا أَلْقَاهُ الْبَحْرُ، فَأَكَلْنَا وَقَدَدْنَا، فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَرْتَحِلَ، أَمَرَ أَمِيرُنَا بِضِلْعٍ مِنْ ضُلُوعِهِ، فَنَكَبَ طَرَفَاهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ أَمَرَ بِبَعِيرٍ فَرُحِّلَ، فَمَرَّ تَحْتَهُ .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ کی سرزمین کی طرف ایک مہم روانہ کی۔ آپ نے ایک شخص کو ان لوگوں کا امیر مقرر کیا جب ان لوگوں کا زاد راہ ختم ہو گیا تو ان کے امیر نے حکم دیا کہ باقی بچ جانے والے زاد راہ کو جمع کیا جائے۔ وہ جمع کر دیا گیا تو امیر ہمیں روزانہ ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے۔
راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جب وہ بھی ختم ہو گئی، تو ہمیں اس کے ختم ہونے کا شدید احساس ہوا۔ ہم میں سے کوئی ایک شخص اسے اپنے دانتوں کے درمیان رکھ کر چوس لیا کرتا تھا ہمیں درختوں کے پتے ملتے اور زمین کے نباتات اس کے ساتھ مل جاتے تھے یہاں تک کہ ہم سمندر کے ساحل تک آئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک مچھلی کو نکالا جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا۔ ہم نے اسے کھایا اور اس کی چربی استعمال کی جب ہم وہاں سے روانہ ہونے لگے تو ہمارے امیر نے حکم دیا کہ اس کی ایک پسلی کو زمین پر کھڑا کیا جائے پھر ان کے حکم کے تحت ایک اونٹ پر سامان رکھا گیا؟ تو وہ اونٹ اس کے نیچے سے گزر گیا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5261]
راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جب وہ بھی ختم ہو گئی، تو ہمیں اس کے ختم ہونے کا شدید احساس ہوا۔ ہم میں سے کوئی ایک شخص اسے اپنے دانتوں کے درمیان رکھ کر چوس لیا کرتا تھا ہمیں درختوں کے پتے ملتے اور زمین کے نباتات اس کے ساتھ مل جاتے تھے یہاں تک کہ ہم سمندر کے ساحل تک آئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک مچھلی کو نکالا جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا۔ ہم نے اسے کھایا اور اس کی چربی استعمال کی جب ہم وہاں سے روانہ ہونے لگے تو ہمارے امیر نے حکم دیا کہ اس کی ایک پسلی کو زمین پر کھڑا کیا جائے پھر ان کے حکم کے تحت ایک اونٹ پر سامان رکھا گیا؟ تو وہ اونٹ اس کے نیچے سے گزر گیا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5261]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5237»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
الرواة الحديث:
عبيد الله بن مقسم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري