پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
55. باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر الإباحة للمرء أكل الضباب إذا لم يتقذرها-
جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ اجازت کہ آدمی دھند کھائے اگر اسے ناپسند نہ کرے
حدیث نمبر: 5266
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ وَنَحْنُ مُرْمِلُونَ، فَأَصَبْنَاهَا، فَكَانَتِ الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا؟ فَقُلْنَا: ضِبَابًا أَصَبْنَاهَا، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ تَكُونَ هَذِهِ"، فَأَمَرَنَا فَأَكْفَأْنَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِإِكْفَاءِ الْقُدُورِ الَّتِي فِيهَا الضِّبَابُ أَمْرٌ قُصِدَ بِهِ الزَّجْرُ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ، وَالْعِلَّةُ الْمُضَمَرَةُ هِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعَافُهَا، لا أَنَّ أَكْلَهَا مُحَرَّمٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن حسنه مہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کی۔ ہم نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں گوہ بہت زیادہ تھیں ہم لوگ ضرورت مند تھے ہم نے انہیں پکڑا تو ہنڈیا میں وہ پکنے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دریافت کیا: یہ کیا چیز ہے؟ ہم نے عرض کی: یہ گوہ ہے جو ہم نے پکڑی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو مسخ کر دیا گیا تھا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے؟ شاید یہ وہی نہ ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے ہنڈیاؤں کو الٹ دیا حالانکہ ہم بھوکے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان ہنڈیاؤں کو الٹانے کا حکم دینا جن میں گوہ پک رہی تھی۔ یہ ایک ایسا حکم ہے جس کے ذریعے گوہ کھانے کی ممانعت مقصود ہے اور اس میں علت یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے اسے کھانا حرام دیا گیا ہے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5266]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان ہنڈیاؤں کو الٹانے کا حکم دینا جن میں گوہ پک رہی تھی۔ یہ ایک ایسا حکم ہے جس کے ذریعے گوہ کھانے کی ممانعت مقصود ہے اور اس میں علت یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے اسے کھانا حرام دیا گیا ہے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5266]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5266، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19484، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18034» «رقم طبعة با وزير 5242»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - دون قوله: « ... فأمرنا ... ».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5266 in Urdu
زيد بن وهب الجهني ← عبد الرحمن بن حسنة الجهني