صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. ذكر البيان بأن ذلك بعد المصطفى صلى الله عليه وسلم كان في يد الخليفة بعده صلى الله عليه وسلم-
- باب اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ انگوٹھی آپ کے خلیفہ کے ہاتھ میں تھی۔
حدیث نمبر: 5495
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " لا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى هَلَكَ مِنْهُ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی سمت میں رکھتے تھے۔ لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ وہ آپ کے دست اقدس میں رہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، یہاں تک کہ وہ ان سے بئر اریس میں گر گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5495]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5471»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي