صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
68. باب آداب النوم - ذكر الأمر بمسألة الله جل وعلا الغفران لمن أراد أن يأتي مضجعه إن أمسك نفسه وحفظها إن أرسلها-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ جو شخص سونے سے پہلے اللہ سے مغفرت طلب کرے اگر اس نے نفس کو قابو میں رکھا اور اس کی حفاظت کی
حدیث نمبر: 5534
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارَهُ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ، وَيُسَمِّي اللَّهَ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنَ، وَلْيَقُلْ: سُبْحَانَكَ رَبِّي، بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا، فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو وہ اپنے تہبند کے اندرونی حصے کے ذریعے اسے جھاڑ لے اور «بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھے؛ کیونکہ وہ یہ بات نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس کے بستر پر کیا چیز آئی تھی، پھر جب وہ لیٹنے کا ارادہ کرے تو دائیں پہلو پر لیٹے اور یہ پڑھے: «سُبْحَانَكَ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”تو پاک ہے اے میرے پروردگار! میں تیری مدد کے ذریعے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں اور تیری مدد کے ذریعے اسے اٹھاؤں گا، اگر تو نے میری جان کو روک لیا (یعنی مجھے موت دے دی) تو اس کی مغفرت کرنا اور اگر تو نے اسے چھوڑ دیا (یعنی میں دوبارہ بیدار ہو گیا) تو اس چیز کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا جس کے ہمراہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5534]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6320، 7393، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2714، 2714، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5534، 5535، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5050، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3401، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3874، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7477» «رقم طبعة با وزير 5509»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الكلم الطيب» (34)، «صحيح الأدب المفرد» (932): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5534 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي