صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
90. باب قتل الحيوان - ذكر السبب الذي من أجله أمر المصطفى صلى الله عليه وسلم بقتل الكلاب-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - بیان کیا گیا کہ اس حکم کے پیچھے سبب کیا تھا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 5649
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، قَالَتْ مَيْمُونَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَدْ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ، فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي، قَالَتْ: فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلا صُورَةٌ" ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلابِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، وَبِتَرْكِ كَلْبِ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اٹھے تو پریشان تھے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج آپ کے چہرے کی رنگت تبدیل محسوس ہو رہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ گزشتہ رات مجھ سے ملنے کے لیے آئیں گے لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے، اللہ کی قسم وہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دن اسی عالم میں (یعنی پریشانی کے عالم میں) گزار دیا، پھر آپ کے ذہن میں کتے کے اس بچے کا خیال آیا جو ہمارے بستر کے نیچے تھا، آپ کے حکم کے تحت اسے باہر نکال دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اس جگہ پر پانی چھڑکا، شام کے وقت سیدنا جبرائیل آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا گزشتہ رات تم مجھ سے ملنے کے لیے آؤ گے۔“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجود ہو۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار دینے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے باغ (کے محافظ) کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا، البتہ بڑے باغ (کے محافظ) کتے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5649]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2105، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 299، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5649، 5856، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4287، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1170، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27442» «رقم طبعة با وزير 5620»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (6/ 156).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5649 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية