صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
296. باب الصحبة والمجالسة - ذكر الاستحباب للمرء أن يعلم أخاه محبته إياه لله جل وعلا
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اللہ جل وعلا کے لیے اپنی محبت کا علم دے
حدیث نمبر: 569
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ هَذَا لِلَّهِ، قَالَ:" فَهَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ؟" قُلْتُ: لا، قَالَ:" فَأَعْلِمْ ذَاكَ أَخَاكَ"، قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ فَأَدْرَكْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ لِلَّهِ، قَالَ هُوَ: وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ لِلَّهِ قُلْتُ: لَوْلا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَنِي أَنْ أُعْلِمُكَ لَمْ أَفْعَلْ" تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کو سلام کیا پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اس شخص سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ بات اپنے بھائی کو بتا دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں اس شخص کے پیچھے گیا۔ میں اس تک پہنچ گیا۔ میں نے اسے کندھے سے پکڑا۔ میں نے اسے سلام کیا اور میں نے یہ کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں، تو انہوں نے بھی یہ کہا: اللہ کی قسم! میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ میں نے بتایا: اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم نہ دیا ہوتا کہ میں آپ کو یہ بات بتا دوں، تو میں ایسا نہ کرتا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں ازرق بن علی نامی راوی منفرد ہے اور یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 569، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13361، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4328» «رقم طبعة با وزير 568»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (3253).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، الأزرق بن علي روى عنه جمع، وذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 136 وقال: يغرب، وحسان بن إبراهيم حسن الحديث، روى له الشيخان أحاديث توبع عليها، ومن فوقهما ثقات من رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 569 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي