صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
151. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر وصف هذين الرجلين اللذين قال أحدهما لصاحبه ما قال-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر وصف ان دو آدمیوں کی جن میں سے ایک نے دوسرے سے وہ بات کہی جو اس نے کہی
حدیث نمبر: 5712
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ مُصَفِّرٍ رَأْسَهُ، بَرَّاقِ الثَّنَايَا، مَعَهُ رَجُلٌ أَدْعَجُ، جَمِيلُ الْوَجْهِ، شَابٌّ، فَقَالَ الشَّيْخُ: يَا يَمَامِيُّ تَعَالَ، لا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ أَبَدًا لا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، وَاللَّهِ لا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قُلْتُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ يَرْحَمُكَ اللَّهُ! قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِبَعْضِ أَهْلِهِ أَوْ لِخَادِمِهِ إِذَا غَضِبَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَلا تَقُلْهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كَانَ رَجُلانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، وَالآخَرُ مُذْنِبٌ، فَأَبْصَرَ الْمُجْتَهِدُ الْمُذْنِبَ عَلَى ذَنْبٍ، فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ لَهُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، قَالَ: وَكَانَ يُعِيدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، حَتَّى وَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ، فَاسْتَعْظَمَهُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ أَقْصِرْ! قَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! فَقَالَ: وَاللَّهِ لا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَدًا، أَوْ قَالَ: لا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، فَبُعِثَ إِلَيْهِمَا مَلَكٌ فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَهُ جَلَّ وَعَلا، فَقَالَ رَبُّنَا لِلْمُجْتَهِدِ: " أَكُنْتَ عَالِمًا؟ أَمْ كُنْتَ قَادِرًا عَلَى مَا فِي يَدِي؟ أَمْ تَحْظُرُ رَحْمَتِي عَلَى عَبْدِي؟ اذْهَبْ إِلَى الْجَنَّةِ" يُرِيدُ الْمُذْنِبَ وَقَالَ لِلآخَرِ:" اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ" .
سیدنا ضمضم بن جوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک عمر رسیدہ شخص تھا جس کے بالوں کا رنگ زرد تھا اس کے دانت انتہائی چمکدار تھے اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا جو بہت خوب صورت اور جوان تھا بوڑھے شخص نے کہا: اے یمامی تم آگے آؤ تم کسی بھی شخص کو یہ کبھی نہ کہنا ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت نہ کرے“ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا، میں نے دریافت کیا آپ کون ہیں اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے انہوں نے جواب دیا: میں ابوہریرہ ہوں، میں نے کہا: اس طرح کا کلمہ تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا خادم کے لیے استعمال کرتا ہے جب وہ اس پر غصے کا اظہار کرتا ہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم یہ نہ کہنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے جو ایک دوسرے کے بھائی بنے ہوئے تھے ان میں سے ایک شخص عبادت میں اہتمام کرتا تھا اور دوسرا گنہگار تھا عبادت گزار شخص نے گناہ کرنے والے شخص کو دیکھا تو اس سے کہا: تم اس میں کمی کر دو تو دوسرے شخص نے کہا: تم یہ معاملہ میرے اور میرے پروردگار کے درمیان رہنے دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس شخص نے اپنی بات اس کے سامنے دہرائی تو اس شخص نے آگے سے یہی جواب دیا تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو یہاں تک کہ عبادت گزار نے ایک دن اسے گناہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے اس کا گناہ بڑا لگا اس نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم گناہ کرنے سے باز آ جاؤ۔ دوسرے شخص نے کہا: تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو کیا تمہیں مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے تو عبادت گزار نے کہا: اللہ کی تم اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کبھی نہیں کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا گیا اس نے ان دونوں کی ارواح کو قبض کر لیا وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اکٹھے ہوئے تو پروردگار نے عبادت گزار سے دریافت کیا: کیا تم عالم ہو یا تم اس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ جو کچھ میرے اختیار میں ہے یا تم میری رحمت کو میرے بندے پر ہونے سے روکتے ہو تم جنت کی طرف جاؤ۔ (راوی کہتے ہیں: یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہگار شخص سے یہ فرمایا) اور دوسرے سے فرمایا اسے جہنم کی طرف لے جاؤ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایک ایسی بات کہی ہے جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5712]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5682»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الطحاوية» (296).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
ضمضم بن جوس الهفاني ← أبو هريرة الدوسي