صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
175. باب الكذب - ذكر الخبر الدال على إباحة قول المرء الكذب في المعاريض يريد به صيانة دينه ودنياه-
جھوٹ بولنے کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ انسان اپنے دین اور دنیا کی حفاظت کے لیے کنایہ میں جھوٹ بولے
حدیث نمبر: 5737
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ قَطُّ إِلا ثَلاثًا: اثْنَتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ: قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، قَالَ: وَمَرَّ عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَارَةُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَجُلا هَاهُنَا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: هَذِهِ أُخْتِي، قَالَ: فَأَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، وَإِنِّي أَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، وَإِنَّكَ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلا تُكَذِّبِينِي، قَالَ: فَلَمَّا رَآهَا ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُخِذَ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَى، فَقَالَ: ادَّعَى اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ، فَقَالَ لأَدْنَى حَجَبَتِهِ عِنْدَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: مَهْيَمْ، قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيَدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ" ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ قَالَ: وَمَدَّ النَّضْرُ صَوْتَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: كُلُّ مَنْ كَانَ مِنْ وَلَدِ هَاجَرَ يُقَالُ لَهُ: وَلَدُ مَاءِ السَّمَاءِ، لأَنَّ إِسْمَاعِيلَ مِنْ هَاجَرَ، وَقَدْ رُبِّيَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، وَهُوَ مَاءُ السَّمَاءِ الَّذِي أَكْرَمَ اللَّهُ بِهِ إِسْمَاعِيلَ، حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ هَاجَرُ، فَأَوْلادُهَا أَوْلادُ مَاءِ السَّمَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی غلط بیانی نہیں کی صرف تین مرتبہ انہوں نے (ذومعنی کی) دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جب انہوں نے یہ کہا:۔ ”میں بیمار ہوں“ اور یہ کہا: ”بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک مرتبہ ان کا گزر ایک ظالم حکمران کے پاس سے ہوا سیدنا ابراہیم السلام کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں اس بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے جس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت خاتون ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس شخص نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کے پاس گئے اس نے ان سے سوالات کئے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتایا: یہ میری (دینی) بہن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ اس حکمران نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تھا تو میں نے اسے بتایا: تم میری بہن ہو تو تم اللہ کی کتاب میں میری بہن ہو اس لیے تم مجھے جھوٹا قرار نہ دینا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اس حکمران نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو وہ ان کے پاس آنے لگا سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے دعائے ضرر کی تو وہ گرفت میں آ گیا اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجئے میرے اوپر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ غلطی نہیں کروں گا پھر سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی وہ دوبارہ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے قریب آنے لگا سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر بددعا کی تو اس پر دوبارہ گرفت ہوئی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر اس کے لیے دعا کی وہ پھر آگے آنے لگا سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر دعاء ضرر کی تو اس کو دوبارہ گرفت میں لیا گیا جو پہلی دونوں مرتبہ کی گرفت سے زیادہ سخت تھی، تو اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو گئی اس نے اپنے پاس موجود اپنے وزیر سے یہ کہا: تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لے کر آئے تم میرے پاس شیطان کو لے کر آئے ہو پھر اس نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے دیں جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس خاتون کو دیکھا تو فرمایا یہ کہاں سے آئی ہے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے بتایا اللہ تعالیٰ نے کافر گنہگار شخص کے فریب کا توڑ کیا اور ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر دے دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو ساتھ یہ بھی کہتے تھے: اے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے لوگو وہ تمہاری والدہ ہیں۔ نضر نامی راوی یہ الفاظ بلند آواز میں بیان کرتے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے لیے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے اور ان کی نشوونما آب زمزم کے ذریعے ہوئی تھی اور یہ آسمانی پانی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عزت افزائی کی تھی اس وقت جب ان کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنم دیا تھا تو ان کی اولاد وہ اولاد ہے جس نے آسمانی پانی کے ذریعے (نشوونما پائی تھی) [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5737]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اس حکمران نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو وہ ان کے پاس آنے لگا سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے دعائے ضرر کی تو وہ گرفت میں آ گیا اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجئے میرے اوپر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ غلطی نہیں کروں گا پھر سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی وہ دوبارہ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے قریب آنے لگا سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر بددعا کی تو اس پر دوبارہ گرفت ہوئی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر اس کے لیے دعا کی وہ پھر آگے آنے لگا سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر دعاء ضرر کی تو اس کو دوبارہ گرفت میں لیا گیا جو پہلی دونوں مرتبہ کی گرفت سے زیادہ سخت تھی، تو اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو گئی اس نے اپنے پاس موجود اپنے وزیر سے یہ کہا: تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لے کر آئے تم میرے پاس شیطان کو لے کر آئے ہو پھر اس نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے دیں جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس خاتون کو دیکھا تو فرمایا یہ کہاں سے آئی ہے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے بتایا اللہ تعالیٰ نے کافر گنہگار شخص کے فریب کا توڑ کیا اور ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر دے دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو ساتھ یہ بھی کہتے تھے: اے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے لوگو وہ تمہاری والدہ ہیں۔ نضر نامی راوی یہ الفاظ بلند آواز میں بیان کرتے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے لیے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے اور ان کی نشوونما آب زمزم کے ذریعے ہوئی تھی اور یہ آسمانی پانی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عزت افزائی کی تھی اس وقت جب ان کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنم دیا تھا تو ان کی اولاد وہ اولاد ہے جس نے آسمانی پانی کے ذریعے (نشوونما پائی تھی) [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5737]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5707»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1916): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن النضر بن شميل المازني ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد عبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي | ثقة |
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي