🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
282. باب الصور والمصورين - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن الصور في البيوت-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر گھروں میں تصاویر بنانے سے منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5845
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، وَإِلَى رَسُولِهِ، فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟" فَقَالَتِ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ، تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لا تَدْخُلُهُ الْمَلائِكَةُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْبَيْتُ الَّذِي يُوحَى فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ فِي بَيْتٍ، وَفِيهِ صُورَةٌ أَنْ يَكُونَ حَافِظَاهُ مَعَهُ، وَهُمَا مِنَ الْمَلائِكَةِ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ:" لا تَصْحَبِ الْمَلائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ"، يُرِيدُ بِهِ رُفْقَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَخْرُجَ الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ مِنْ أَقَاصِي الْمُدُنِ وَالأَقْطَارِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ عَلَى نَعَمٍ وَعِيسٍ بِأَجْرَاسٍ وَكِلابٍ ثُمَّ لا تَصْحَبُهَا الْمَلائِكَةُ وَهُمْ وَفْدُ اللَّهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ٹھہر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف نہیں لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات محسوس کر لیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ پردہ کہاں سے آیا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوں اور اس کے ساتھ ٹیک لگائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے یہ کہا جائے گا: تم نے جو تخلیق کیا تھا اسے زندہ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جس گھر میں تصویریں موجود ہوں، فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ وہ گھر ہو جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اب یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی شخص گھر میں موجود ہو اور اس میں تصویر بھی موجود ہو تو آدمی کے ساتھ موجود حفاظت والے فرشتے گھر کے اندر نہ جائیں، حالانکہ وہ دونوں بھی فرشتے ہی ہیں، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں ہوتے جن میں کتا یا گھنٹی موجود ہو“ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جو سوار سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، اب یہ بات ناممکن ہے کہ حاجی یا عمرہ کرنے والے لوگ دور دراز کے شہروں سے روانہ ہوں اور وہ اونٹوں اور جانوروں پر سوار ہو کر بیت عتیق آنے کا قصد کریں، ان کے ہمراہ گھنٹیاں اور کتے بھی ہوں اور پھر فرشتے ان کے ساتھ نہ آئیں، حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5845]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، 3225، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، 5843، 5845، 5847، 5850، 5851، 5855، 5860، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1750، 2804، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16226» «رقم طبعة با وزير 5815»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «آداب الزفاف» (77 - 78)، «غاية المرام» (121): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥الحسين بن إدريس الأنصاري، أبو علي
Newالحسين بن إدريس الأنصاري ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 5845 in Urdu