صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
283. باب الصور والمصورين - ذكر تعذيب الله جل وعلا المصورين الذين يصورون الصور-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا تصویر بنانے والوں کو عذاب دیتا ہے جو تصاویر بناتے ہیں
حدیث نمبر: 5846
أَخْبَرَنَا ابْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي عَمِلْتُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذَّبُ الْمُصَوِّرِينَ لِمَا صَوَّرُوا" ، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ وَزَعَمَ أَنَّ لَهُ عِيَالا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لا تُصَوِّرْ شَيْئًا فِيهِ رُوحٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں یہ تصویریں بناتا ہوں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ تصویریں بنانے والوں کو تصویریں بنانے کی وجہ سے عذاب دے گا۔“
راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص چلا گیا اس نے یہ بیان کیا تھا کہ اس کے بال بچے ہیں (جن کے لیے وہ اس طریقے سے روزی کماتا ہے) تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم کوئی ایسی تصویر نہ بناؤ جو کسی جاندار چیز کی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5846]
راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص چلا گیا اس نے یہ بیان کیا تھا کہ اس کے بال بچے ہیں (جن کے لیے وہ اس طریقے سے روزی کماتا ہے) تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم کوئی ایسی تصویر نہ بناؤ جو کسی جاندار چیز کی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5846]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5816»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق نحوه، وهو الآتي قريبا (5818). تنبيه!! رقم (5818) = (5848) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
سعيد بن يسار الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي