صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
301. باب اللعب واللهو - ذكر الإباحة لصغار النساء اللعب باللعب وإن كان لها صور-
کھیل کود اور لہو و لعب کا بیان - ذکر اجازت کہ چھوٹی لڑکیاں کھلونوں سے کھیلیں خواہ ان کی صورتیں ہوں
حدیث نمبر: 5864
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ بِاللُّعَبِ، فَرَفَعَ السِّتْرَ، وَقَالَ: " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟" فَقُلْتُ: لُعَبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي أَرَى بَيْنَهُنَّ؟" قُلْتُ: فَرَسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَرَسٌ مِنْ رِقَاعٍ لَهُ جَنَاحٌ؟!" قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَلَمْ يَكُنْ لِسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ خَيْلٌ لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں اس وقت گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور دریافت کیا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! یہ کیا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ گڑیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان جو چیز ہے یہ کیا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ گھوڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا کپڑے سے بنے ہوئے گھوڑے کے پر ہوتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا سیدنا سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے پر نہیں تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5864]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5834»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5864 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق