صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
29. ذكر العلة التي من أجلها نهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث-
- ذکر وجہ جس کی بنا پر تین دن کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 5927
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادَّخِرُوا الثُّلُثَ، وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ"، قَالَتْ عَمْرَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ، وَيَحْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَهَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ، فَكُلُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَادَّخِرُوا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الدَّافَّةُ الْجَمَاعَةُ يَقْدَمُونَ مُجِدِّينَ فِي السُّؤَالِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ عمرہ بنت عبدالرحمن سے کیا تو انہوں نے بتایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر دیہات کے رہنے والے کچھ لوگ آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے (یعنی قربانی کے گوشت کو) صرف تین دن تک ذخیرہ کر سکتے ہو باقی رہ جانے والے کو تم صدقہ کر دو عمرہ نامی راوی خاتون بیان کرتی ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! پہلے لوگ اپنے قربانی کے جانوروں سے نفع حاصل کیا کرتے تھے وہ ان کی چربی سنبھال کر رکھ لیا کرتے تھے اور ان کے (چمڑوں کے ذریعے) مشکیزے بنا دیتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب کیا ہوا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کر دیا تھا (اس لیے لوگ اب ایسا نہیں کرتے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں ان (غریب لوگوں) کی آمد کی وجہ سے منع کیا تھا جو تمہارے ہاں آ گئے تھے اب تم اسے کھاؤ بھی اور صدقہ بھی کرو اور ذخیرہ بھی کرو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ دافہ کا مطلب وہ جماعت ہے جو مانگنے کے لیے آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5927]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ دافہ کا مطلب وہ جماعت ہے جو مانگنے کے لیے آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5927]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5897»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2503): م، خ مختصرا.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق