صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن الفار من الفتن عند وقوعها يكون من خير الناس في ذلك الزمان-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر ان سے بھاگنے والا اس زمانے کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا
حدیث نمبر: 5956
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي كُرْزٌ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا الإِسْلامِ مِنْ مُنْتَهًى؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مِنْ عَرَبٍ أَوْ عَجَمٍ أَدْخَلَهُ عَلَيْهِمْ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَالظُّلَمِ"، قَالَ: كَلا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، فَخَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَذَرُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ" .
سیدنا کرز خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا اس اسلام کا کچھ اختتام ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں اللہ تعالیٰ عربوں اور عجمیوں میں سے جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا اسے اسلام میں داخل کرے گا۔ اس دیہاتی نے عرض کی: یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر کیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تاریکیوں کی طرح کے فتنے آئیں گے۔ اس شخص نے عرض کی: ہرگز نہیں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (ایسا نہیں ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے (ایسا ہی ہو گا) اور تم لوگ دوبارہ اس میں ایسی صورت حال کا شکار ہو جاؤ گے کہ سانپوں کی طرح پھن پھیلا لو گے اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے اس زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ مومن ہو گا جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو گا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو گا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5956]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5925»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3091): خ، دون شطر الاعتزال.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← كرز بن علقمة الخزاعي