صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
323. باب الجلوس على الطريق - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
راستے پر بیٹھنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کی تصدیق کرتی ہے
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ تَجْلِسُوا بِأَفْنِيَةِ الصُّعُدَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ ذَلِكَ وَلا نُطِيقُهُ، قَالَ:" إِمَّا لا فَأَدُّوا حَقَّهَا" قَالُوا: وَمَا حَقُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَدُّ التَّحِيَّةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَغَضُّ الْبَصَرِ، وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ”تم لوگ گھروں کے تھڑوں پر بیٹھو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم تو اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے (یعنی ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر ایسا ہے، تو پھر تم اس کا حق ادا کرو۔“ لوگوں نے دریافت کیا: اس کا حق کیا ہے؟ یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کا جواب دینا، چھینکنے والا جب اللہ کی حمد بیان کرے، تو اسے جواب دینا، نگاہ کو جھکا کر رکھنا اور راستے کی طرف رہنمائی کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 596، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7783، وأبو داود فى (سننه) 4/404، بدون ترقيم، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6603، 6626» «رقم طبعة با وزير 595»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم، عبد الرحمن بن إسحاق: هو ابن عبد الله بن الحارث العمري.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 596 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي