🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن على المرء عند وقوع الفتن السمع والطاعة لمن ولي عليه ما لم يأمره بمعصية-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقت انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات سنے اور اطاعت کرے جو اس پر حاکم ہو جب تک کہ وہ گناہ کا حکم نہ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5964
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ: قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، افْتَحِ الْبَابَ حَتَّى يَدْخُلَ النَّاسُ، أَتَحْسِبُنِي مِنْ قَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ؟ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْعُدَ لَمَا قُمْتُ، وَلَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَكُونَ قَائِمًا لَقُمْتُ مَا أَمْكَنَتْنِي رِجْلايَ، وَلَوْ رَبَطْتَنِي عَلَى بَعِيرٍ لَمْ أُطْلِقْ نَفْسِي حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُطْلِقُنِي، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّبَذَةَ، فَأَذِنَ لَهُ فَأَتَاهَا، فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ، فَقَالُوا: أَبُو ذَرٍّ ، فَنَكَصَ الْعَبْدُ، فَقِيلَ لَهُ: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ: " أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَلَوْ لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعِ الأَطْرَافِ، وَإِذَا صَنَعْتُ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، ثُمَّ انْظُرْ جِيرَانَكَ فَأَنِلْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ، وَصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَتَيْتَ الإِمَامَ وَقَدْ صَلَّى كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ، وَإِلا فَهِيَ لَكَ نَافِلَةٌ" .
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ شام سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ دروازہ کھولیے تاکہ لوگ اندر آ جائیں کیا آپ مجھے ایسے لوگوں سے روک رہے ہیں جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے پھر وہ اس میں دوبارہ نہیں آئیں گے جب تک تیر کمان کی طرف واپس نہیں آتا یہ ساری مخلوق کے سب سے برے فرد ہوں گے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ مجھے بیٹھنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا نہیں رہوں گا اور اگر آپ مجھے کھڑا رہنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا ہو جاؤں گا، جب تک میرے پاؤں میرا ساتھ دیں گے اور اگر آپ مجھے کسی اونٹ کے ساتھ باندھ دیں، تو میں خود کو کھولنے کی کوشش نہیں کروں گا، جب تک آپ خود مجھے نہیں کھولتے پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اجازت لی کہ وہ ربذہ چلے جائیں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دیدی وہ وہاں آ گئے وہاں ایک غلام ان لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا لوگوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، تو غلام نے سر جھکا لیا۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا آپ آگے بڑھیے (اور نماز پڑھائیے) تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی ہے یہ کہ میں اطاعت و فرمانبرداری کروں خواہ کوئی ایسا حبشی حکمران ہو، جس کے ناک اور کان کٹے ہوئے ہوں دوسرا یہ کہ جب میں شوربا بناؤں، تو اس میں پانی زیادہ ڈال دوں اور پھر اس بات کا جائزہ لوں کہ میرے پڑوسیوں میں سے کسے بھیجا جا سکتا ہے اور (تیسری بات یہ کہ) نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا پھر اگر تم امام کے پاس آؤ اور وہ تم سے پہلے نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز کو محفوظ کر چکے تھے ورنہ یہ نماز تمہارے لیے نفل شمار ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5964]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 648، 1837، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 468، 513، 514، 523، 1718، 5964، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6656، 11807، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1833، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2862، 3362، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21721، والحميدي فى (مسنده) برقم: 139» «رقم طبعة با وزير 5933»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (2/ 501 / 1052)، «الصحيحة» (1368)، وعند (م) آخره: أوصاني ...
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥عبد الله بن الصامت الغفاري، أبو النضر
Newعبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← عبد الله بن الصامت الغفاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 5964 in Urdu