صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
16. ذكر تعداد عائشة قول ابن عباس الذي ذكرناه من أعظم الفرية-
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس قول کو (جو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) سب سے بڑی تہمت قرار دینے کا ذکر۔
حدیث نمبر: 60
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: أَعْظَمُ الْفِرْيَةِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، قِيلَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا رَآهُ؟ قَالَتْ: لا، إِنَّمَا ذَلِكَ جِبْرِيلُ رَآهُ مَرَّتَيْنِ فِي صُورَتِهِ: مَرَّةً مَلأَ الأُفُقَ، وَمَرَّةً سَادًّا أُفُقَ السَّمَاءِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَدْ يَتَوَهُمْ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مُتَضَادَّانِ، وَلَيْسَا كَذَلِكَ، إِذِ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا فَضَّلَ رَسُولَهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الأَنْبِيَاءِ، حَتَّى كَانَ جِبْرِيلُ مِنْ رَبِّهِ أَدْنَى مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ جِبْرِيلُ حِينَئِذٍ، فَرَآهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَلْبِهِ كَمَا شَاءَ، وَخَبَرُ عَائِشَةَ وَتَأْوِيلُهَا أَنَّهُ لا يُدْرِكُهُ، تُرِيدُ بِهِ فِي النَّوْمِ وَلا فِي الْيَقَظَةِ، وَقَوْلُهُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ سورة الأنعام آية 103 فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ، يُرَى فِي الْقِيَامَةِ وَلا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ رَأَتْهُ، لأَنَّ الإِدْرَاكَ هُوَ الإِحَاطَةُ، وَالرُّؤْيَةُ هِيَ النَّظَرُ، وَالِلَّهِ يُرَى وَلا يُدْرَكُ كُنْهُهُ، لأَنَّ الإِدْرَاكَ يَقَعُ عَلَى الْمَخْلُوقِينَ، وَالنَّظَرُ يَكُونُ مِنَ الْعَبْدِ رَبَّهُ، وَخَبَرُ عَائِشَةَ أَنَّهُ لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ، فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ فِي الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ، إِلا مَنْ يَتَفَضَّلُ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادِهِ بِأَنْ يُجْعَلَ أَهْلا لِذَلِكَ، وَاسْمُ الدُّنْيَا قَدْ يَقَعُ عَلَى الأَرَضِينَ وَالسَّمَاوَاتِ وَمَا بَيْنَهُمَا، لأَنَّ هَذِهِ الأَشْيَاءَ بِدَايَاتٌ خَلَقَهَا الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا لِتُكْتَسَبَ فِيهَا الطَّاعَاتُ لِلآخِرَةِ الَّتِي بَعْدَ هَذِهِ الْبِدَايَةِ، فَالنَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي لا يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ الدُّنْيَا، لأَنَّهُ كَانَ مِنْهُ أَدْنَى مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ حَتَّى يَكُونَ خَبَرُ عَائِشَةَ، أَنَّهُ لَمْ يَرَهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتُرٌ.
مسروق بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
وہ شخصاللہ تعالیٰ کی طرف سب سے بڑی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے، جو یہ کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے، یا جو یہ کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی تھی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری باتیں بیان نہیں کی ہیں)
یا جو شخص کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ جانتے تھے کہ کل کیا ہو گا؟
ان سے دریافت کیا گیا: اے ام المؤمنین پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسے دیکھا تھا؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے افق کو بھر دیا تھا، اور ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے آسمان کے افق کو گھیرا ہوا تھا۔
امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ یہ دو روایات باہم متضاد ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہاللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے اتنا قریب ہو گئے جتنا دو کمانوں کا فاصلہ ہوتا ہے اور اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یا شایداللہ تعالیٰ کو) دل کی آنکھ سے دیکھ لیا جیسے اس نے چاہا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول اس روایت، کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ادراک نہیں کر سکتے، کا مفہوم یہ ہے: آپ نیند کے عالم میں اور بیداری کے عالم میں ایسا نہیں کر سکتے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی“ سے مراد یہ ہے: بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس کا دیدار قیامت کے دن ہو گا لیکن بصارت جب اس کا دیدار کرے گی تو اس کا ادراک نہیں کر سکے گی، کیونکہ ادراک کا مطلب احاطہ کرنا ہے اور دیدار کا مطلب دیکھنا ہے اوراللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ادراک مخلوق کا ہو سکتا ہے اور بندے کی طرف سے پروردگار کو دیکھنا (ممکن) ہو سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول یہ روایت کہ بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس سے مراد یہ ہے کہ بصارت دنیا اور آخرت میں اس کا ادراک نہیں کر سکتی لیکن اپنے بندوں میں سے وہ جس پر چاہے فضل کر کے اس کا اہل بنا سکتا ہے۔
لفظ دنیا کا اطلاق کبھی زمینوں اور آسمانوں اور ان کے درمیان موجود جگہ پر ہوتا ہے، کیونکہ ان اشیاء سے آغاز ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے پیدا کیا تھا تاکہ ان میں آخرت کے لئے نیکیاں کمائی جائیں جو اس آغاز کے بعد گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا دیدار اس مقام پر کیا ہے جہاں لفظ دنیا کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اس وقت دو کمانوں کے درمیان فاصلے سے بھی زیادہ قریب تھے۔ اس لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت کا مطلب یہ ہو گا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں اس کا دیدار نہیں کیا۔ اس لئے ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 60]
وہ شخصاللہ تعالیٰ کی طرف سب سے بڑی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے، جو یہ کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے، یا جو یہ کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی تھی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری باتیں بیان نہیں کی ہیں)
یا جو شخص کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ جانتے تھے کہ کل کیا ہو گا؟
ان سے دریافت کیا گیا: اے ام المؤمنین پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسے دیکھا تھا؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے افق کو بھر دیا تھا، اور ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے آسمان کے افق کو گھیرا ہوا تھا۔
امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ یہ دو روایات باہم متضاد ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہاللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے اتنا قریب ہو گئے جتنا دو کمانوں کا فاصلہ ہوتا ہے اور اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یا شایداللہ تعالیٰ کو) دل کی آنکھ سے دیکھ لیا جیسے اس نے چاہا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول اس روایت، کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ادراک نہیں کر سکتے، کا مفہوم یہ ہے: آپ نیند کے عالم میں اور بیداری کے عالم میں ایسا نہیں کر سکتے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی“ سے مراد یہ ہے: بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس کا دیدار قیامت کے دن ہو گا لیکن بصارت جب اس کا دیدار کرے گی تو اس کا ادراک نہیں کر سکے گی، کیونکہ ادراک کا مطلب احاطہ کرنا ہے اور دیدار کا مطلب دیکھنا ہے اوراللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ادراک مخلوق کا ہو سکتا ہے اور بندے کی طرف سے پروردگار کو دیکھنا (ممکن) ہو سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول یہ روایت کہ بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس سے مراد یہ ہے کہ بصارت دنیا اور آخرت میں اس کا ادراک نہیں کر سکتی لیکن اپنے بندوں میں سے وہ جس پر چاہے فضل کر کے اس کا اہل بنا سکتا ہے۔
لفظ دنیا کا اطلاق کبھی زمینوں اور آسمانوں اور ان کے درمیان موجود جگہ پر ہوتا ہے، کیونکہ ان اشیاء سے آغاز ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے پیدا کیا تھا تاکہ ان میں آخرت کے لئے نیکیاں کمائی جائیں جو اس آغاز کے بعد گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا دیدار اس مقام پر کیا ہے جہاں لفظ دنیا کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اس وقت دو کمانوں کے درمیان فاصلے سے بھی زیادہ قریب تھے۔ اس لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت کا مطلب یہ ہو گا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں اس کا دیدار نہیں کیا۔ اس لئے ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 60]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» - أيضاً -: ق. * [فَرَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَلْبِهِ] قال الشيخ: قلت: ثبت - بهذا القيد - عند مسلم (1/ 109 - 110) من طريقين عنِ ابنِ عباس، قال: رآه بقلبه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. أبو الربيع: هو سليمان بن داود بن حماد بن سعد المهري، ابن أخي رشدين بن سعد المصري، ثقة من رجال "التهذيب"، وذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 279، وباقي رجال السند على شرط الصحيح. عمرو بن الحارث: هو ابن يعقوب بن عبد الله الأنصاري مولاهم المصري.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي |