پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. باب الغرة - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس أنه مضاد لإخبار أبي هريرة التي ذكرناها-
«غُرَّہ» (یعنی حمل ضائع ہونے پر دیت) کا بیان - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابو ہریرہ کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6021
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ نَاشَدَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ:" كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، تو سیدنا حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے بتایا: میری دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو مار کر دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا، تو اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاوان کے طور پر غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دیا کہ اس عورت کو مقتول عورت کے عوض میں قتل کر دیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6021]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6019، 6021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4843، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16513، والبزار فى (مسنده) برقم: 4778، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 18356، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11767» «رقم طبعة با وزير 5989»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1983). تنبيه هام!! وقع لقب «الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى» في طبعة باوزير «الأَرزي» بدلا من «الأَزدي» وكتب الشيخ تعليقا على هذه اللفظة فقال: الأصل: (الأزدي)! والتصويب من «ترتيب الثقات» للهيثمي وغيره؛ انظر «التيسير»، وغَفَل عنه المعلق على «طبعة المؤسسة». وهو صدوق؛ كما قال الحافظ. وتابعه جمع: عند أبي داود (4572)، والدارمي (2/ 196 - 197)، وابن ماجه (4641)، وصرَّح بعضُهم بتحديث ابن جُريجٍ، فَصَحَّ الحديث. لكنَّ البيهقي عَقَّبَ عليه بقوله: «ثُمَّ شَكَّ في قوله: وأن تقتل بها …، والمحفوظُ أَنَّهُ قضى بديتها على عاقلة القاتلة»؛ يعني: دون جملة القتل. ويشهد لما قال أحاديث الباب، بل في رواية ذكرها الحافظ في «الفتح» (12/ 248): أنَّ المرأةَ الَّتِي قَضَى عليها بالغرَّة توفِّيت، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأنَّ مِيراثَها لبنيها وزوجها، وأنَّ العقلَ على عصبتها. تنبيه!! في طبعة المؤسسة الأزدي وليس الأرزي وانظر إلى تعليق الألباني حول هذه اللفظة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6021 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← حمل بن مالك الهذلي