صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. ذكر الخبر الدال على أن الرقى المنهي عنها إنما هي الرقى التي يخالطها الشرك بالله جل وعلا دون الرقى التي لا يشوبها شرك-
- ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ منع شدہ رقیت وہ ہیں جن میں اللہ جل وعلا کے ساتھ شرک ہو، نہ کہ وہ جو شرک سے پاک ہوں
حدیث نمبر: 6092
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنْ كُرَيْبٍ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ يُصَلِّي إِلَى أُسْطُوَانَةٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيًّا انْصَرَفَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ حَدِّثْنَا حَدِيثَ أُمُّكَ فِي الرُّقْيَةِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ قَالَتْ: لا أَرْقِي حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ فَاسْتَأْذَنَتْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْقِي، مَا لَمْ يَكُنْ فِيهَا شِرْكٌ" .
کریب کندی بیان کرتے ہیں: سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم لوگ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ صاحب کے پاس چلے گئے ان کا نام ابن ابوحثمہ تھا وہ ستون کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر رہے تھے ہم ان کے پاس بیٹھ گئے جب انہوں نے امام زین العابدین کو دیکھا، تو نماز ختم کر کے ان کے پاس آئے۔ امام زین العابدین نے ان سے کہا: آپ دم کرنے کے بارے میں اپنی والدہ کی نقل کردہ روایت ہمیں بیان کیجئے، تو انہوں نے بتایا میری والدہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھیں جب اسلام آ گیا، تو انہوں نے یہ کہا: میں اس وقت تک دم نہیں کروں گی جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت نہیں لیتی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دم کرو جب کہ اس کے الفاظ میں شرک نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6092]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6060»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (178).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح بطرقه وشواهده
الرواة الحديث:
أبو بكر بن سليمان العدوي ← الشفاء بنت عبد الله القرشية