صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. باب التوبة - ذكر ما يجب على المرء من لزوم الندم والتأسف على ما فرط منه رجاء مغفرة الله جل وعلا ذنوبه به
توبہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی کوتاہیوں پر ندامت اور افسوس کرے تاکہ اللہ جل وعلا اس کے گناہوں کو اس کے ذریعے معاف کر دے
حدیث نمبر: 615
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا، ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ، فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ: هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لا، فَقَتَلَهُ، وَجَعَلَ يَسْأَلُ، فقَالَ لَهُ رَجُلٌ: ائْتِ قَرْيَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَمَاتَ، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلائِكَةُ الْعَذَابِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى هَذِهِ: تَقَرَّبِي وَإِلَى هَذِهِ تَبَاعَدِي، فَوُجِدَ أَقْرَبَ إِلَى هَذِهِ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا تھا، پھر وہ شخص روانہ ہوا تاکہ اس بارے میں دریافت کرے، وہ ایک راہب کے پاس آیا۔ راہب سے دریافت کیا: کیا اس کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ تو اس نے جواب دیا: جی نہیں، تو اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا، پھر وہ دریافت کرتا رہا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: تم فلاں بستی میں چلے جاؤ، پھر اس شخص کو موت آ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کے اس (حصے) کی طرف وحی کی کہ تم قریب ہو جاؤ اور دوسرے حصے کی طرف وحی کی کہ تم دور ہو جاؤ، تو اس شخص کو ایک بالشت اس حصے (یعنی جہاں وہ جا رہا تھا) کے قریب پایا گیا، تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3470، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2766، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 611، 615، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2622، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11323» «رقم طبعة با وزير 614»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (610)، مضى مطوَّلاً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 615 in Urdu
بكر بن قيس الناجي ← أبو سعيد الخدري