صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
35. باب بدء الخلق - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه يضاد خبر عائشة الذي ذكرناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6174
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَشُعَيْثُ بْنُ مُحْرِزٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" إِِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِِلَيْهِ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيَقُولُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ إِِلا ذِرَاعٌ، فَيَغْلِبُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ الَّذِي سَبَقَ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِِلا ذِرَاعٌ، فَيَغْلِبُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ الَّذِي سَبَقَ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق بھی کی گئی، کسی بھی شخص کے نطفے کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک (نطفے کی شکل میں) رکھا جاتا ہے پھر وہ اتنے ہی عرصے تک جما ہوا خون بن کے رہتا ہے پھر وہ اتنے ہی عرصے تک گوشت کے ٹکڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم اس کے عمل، اس کی موت، اس کا رزق اور اس کے بدبخت یا نیک بخت ہونے کو نوٹ کرو۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے پھر تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے اور اس کے لیے اہل جہنم کی مہر لگا دی جاتی ہے (یا اس کا خاتمہ اہل جہنم پر ہوتا ہے) اور ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا سا عمل کر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6174]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6141»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (175 و 176)، «الإرواء» (2143): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
زيد بن وهب الجهني ← عبد الله بن مسعود