صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
58. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله استحق قوم صالح العذاب من الله جل وعلا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر قوم صالح کو اللہ جل وعلا سے عذاب ملا
حدیث نمبر: 6197
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ قَالَ: " لا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الآيَاتِ، هَؤُلاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ آيَةً، فَكَانَتِ النَّاقَةُ تَرِدُ عَلَيْهِمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَيَشْرَبُونَ مِنْ لَبَنِهَا يَوْمَ وُرُودِهَا مِثْلَ مَا غَبَّهُمْ مِنْ مَائِهِمْ، فَعَقَرُوهَا، فَوُعِدُوا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَكَانَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ، فَلَمْ يَبْقَ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ رَجُلٌ إِِلا أَهْلَكَتْ، إِِلا رَجُلٌ فِي الْحَرَمِ مَنَعَهُ الْحَرَمُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُوَ؟، قَالَ:" أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قومِ ثمود کی بستی کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے نبی سے معجزات کے بارے میں مطالبہ نہ کرنا کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے معجزے کا مطالبہ کیا، تو اس راستے سے ایک اونٹنی نکل کر ان کے پاس آئی، وہ اس راستے سے واپس چلی جایا کرتی تھی، وہ لوگ اس اونٹنی کا دودھ پیا کرتے تھے جس دن وہ اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی اتنا ہی جتنا وہ ان کے پانی پر وقفہ کے ساتھ آتی تھی ہوتا تھا، ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے، تو ان لوگوں کے ساتھ تین دن کے اندر (عذاب آنے کا) وعدہ کیا گیا، یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی خلاف ورزی نہیں ہونی تھی، تو ایک زبردست آواز نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، اس وقت آسمان کے نیچے موجود ہر شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ماسوائے اس شخص کے جو حرم کی حدود کے اندر تھا، حرم نے انہیں اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون شخص تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثقیف قبیلے کا جدِ امجد ابورغال۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6197]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6197، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14377» «رقم طبعة با وزير 6164»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «تخريج فقه السيرة» (408). * [أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ] قال الشيخ: زاد أحمد: «فلما خرج من الحرم؛ أصابه ما أصاب قومه».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6197 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري