🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
93. باب بدء الخلق - ذكر تشبيه المصطفى صلى الله عليه وسلم عيسى ابن مريم بعروة بن مسعود-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ ابن مریم کی تشبیہ عروة بن مسعود سے دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6233
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْحَارِثَ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلِ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، وَإِِنَّ عِيسَى قَالَ لَهُ: إِِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ تَعْمَلُ بِهِنَّ وَتَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، فَإِِمَّا أَنْ تَأْمُرَهُمْ، وَإِِمَّا أَنْ آمُرَهُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلأَتْ، وَجَلَسُوا عَلَى الشَّرُفَاتِ، فَوَعَظَهُمْ، وَقَالَ: إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَعْمَلُ بِهِنَّ، وَآمُرُكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ: أَوَّلُهُنَّ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَمَثَلُ ذَلِكَ، مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا بِخَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرَقٍ، وَقَالَ لَهُ: هَذِهِ دَارِي، وَهَذَا عَمَلِي، فَجَعَلَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي إِِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ، فَأَيُّكُمْ يَسُرُّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ هَكَذَا، وَإِِنَّ اللَّهَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ، فَاعْبُدُوهُ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَآمُرُكُمْ بِالصَّلاةِ، فَإِِذَا صَلَّيْتُمْ، فَلا تَلْتَفِتُوا، فَإِِنَّ الْعَبْدَ إِِذَا لَمْ يَلْتَفِتِ، اسْتَقْبَلَهُ جَلَّ وَعَلا بِوَجْهِهِ، وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ، وَإِِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ فِيهَا مِسْكٌ، وَعِنْدَهُ عِصَابَةٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَجِدُوا رِيحَهَا، فَإِِنَّ الصِّيَامَ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُو، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِِلَى عُنُقِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَضْرِبُوا عُنُقَهُ، فَقَالَ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِي، فَجَعَلَ يُعْطِيهِمُ الْقَلِيلَ وَالْكَثِيرَ لِيَفُكَّ نَفْسَهُ مِنْهُمْ، وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ، فَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ، فَأَتَى عَلَى حِصْنُ حُصَيْنٍ، فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ، فَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لا يُحْرِزُ نَفْسَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِِلا بِذِكْرِ اللَّهِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهَا: بِالْجَمَاعَةِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ، فَقَدْ خَلَعَ رِبَقَ الإِِسْلامِ مِنْ عُنُقِهِ إِِلا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ"، قَالَ رَجُلٌ: وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى؟، قَالَ:" وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِالْجَمَاعَةِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ الْخَاصُّ، لأَنَّ الْجَمَاعَةَ هِيَ إِِجْمَاعُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ لَزِمَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ، وَشَذَّ عَنْ مَنْ بَعْدَهُمْ، لَمْ يَكُنْ بِشَاقٍّ لِلْجَمَاعَةِ، وَلا مُفَارِقٍ لَهَا، وَمَنْ شَذَّ عَنْهُمْ، وَتَبِعَ مَنْ بَعْدَهُمْ، كَانَ شَاقًّا لِلْجَمَاعَةِ، وَالْجَمَاعَةُ بَعْدَ الصَّحَابَةِ هُمْ أَقْوَامٌ اجْتَمَعَ فِيهِمُ الدِّينُ وَالْعَقْلُ وَالْعِلْمُ، وَلَزِمُوا تَرْكَ الْهَوَى فِيمَا هُمْ فِيهِ. وَإِِنْ قَلَّتْ أَعْدَادُهُمْ، لا أَوْبَاشُ النَّاسِ وَرِعَاعُهُمْ، وَإِِنْ كَثُرُوا، وَالْحَارِثُ الأَشْعَرِيُّ هَذَا: هُوَ أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ، اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ مَالِكٍ، مِنْ سَاكِنِي الشَّامِ .
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ لوگ ان پر عمل کریں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ہدایت کریں کہ وہ ان پر عمل کریں، یا تو آپ بنی اسرائیل کو ان کا حکم دے دیں یا پھر میں حکم دے دیتا ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور لوگ اس کے بالاخانوں میں بھی بیٹھ گئے۔ انہوں نے ان لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور یہ کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تم لوگوں کو بھی اس بات کی ہدایت کروں کہ تم ان پر عمل کرو۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو خاص اپنے مال میں سے سونے یا چاندی کے عوض کوئی غلام خریدتا ہے اور اسے یہ کہتا ہے کہ یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا کام ہے، لیکن وہ غلام کام کر کے (نفع) اپنے آقا کی بجائے کسی اور کے حوالے کر دیتا ہے، تو تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کا غلام اس طرح کا ہو؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اس نے تمہیں رزق عطا کیا ہے، لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ میں تمہیں نماز پڑھنے کی بھی ہدایت کرتا ہوں، جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر توجہ نہ کرو کیونکہ بندہ جب (نماز پڑھ رہا ہوتا ہے) اور وہ ادھر ادھر توجہ نہیں کرتا، تو اس کا پروردگار اس کے سامنے ہوتا ہے اور میں تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پاس ایک ایسی تھیلی ہو جس میں مشک موجود ہو اور اس کے پاس کچھ لوگ موجود ہوں، جنہیں یہ بات پسند ہو کہ وہ اس خوشبو کو حاصل کریں، تو روزہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جسے دشمن قید کر لیتے ہیں اور اس کے ہاتھ اس کی گردن پر باندھ دیتے ہیں اور وہ اس کی گردن اڑانے کا ارادہ کرتے ہیں، تو وہ شخص یہ کہتا ہے: کیا میں تمہیں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں؟ تو وہ انہیں تھوڑا اور زیادہ (فدیہ دینے کی پیشکش) کرتا ہے، تاکہ ان لوگوں سے اپنے آپ کو چھڑا لے۔ میں تمہیں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پیچھے دشمن تیز رفتاری سے لگا ہوا ہو اور پھر وہ شخص ایک قلعہ کے پاس آ جائے اور اپنے آپ کو اس میں داخل کر کے محفوظ کر لے۔ اسی طرح بندہ اپنے آپ کو شیطان سے صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے ہی محفوظ کر سکتا ہے۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے: مسلمانوں کی (جماعت کے ساتھ رہنا)، حاکم وقت کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے ایک بالشت الگ ہوتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتا ہے، اس وقت تک، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتا اور جو شخص زمانہ جاہلیت کا سا دعویٰ کرتا ہے وہ جہنم میں جائے گا۔“ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو، تم لوگ (ایک دوسرے) کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ نام کے ذریعے بلاؤ، اس نے تمہیں مسلمان اور مومن کا نام دیا ہے، اے اللہ کے بندو!“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم الفاظ کے عموم کے ذریعے ہے، لیکن اس کے ذریعے خاص مفہوم مراد ہے کیونکہ جماعت سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا متفق ہونا ہے، تو جو شخص اس چیز کو لازم پکڑے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا اور ان کے بعد آنے والے لوگوں سے مختلف رائے اختیار کرے وہ جماعت سے علیحدہ ہونے والا یا اس کو ترک کرنے والا شمار نہیں ہوگا، لیکن جو شخص صحابہ کی جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور ان کے بعد میں آنے والوں میں سے کسی کی پیروی کرے وہ جماعت سے الگ ہونے والا شمار ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد جماعت مختلف قسم کے لوگ ہیں جن میں دین، عقل اور علم کا اتفاق ہوا اور ان لوگوں نے خواہش نفس کی پیروی کو ترک کیا، اگرچہ ان کی تعداد بہت تھوڑی سی ہے، اس سے مراد عام اور فضول لوگ نہیں ہیں اگرچہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ حارث اشعری نامی راوی سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا نام حارث بن مالک ہے اور یہ شام میں رہائش پذیر تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6233]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6233، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 403، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2863، 2864، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17443» «رقم طبعة با وزير 6200»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 189 - 190)، «المشكاة» (3694). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث الأشعري، أبو مالكصحابي
👤←👥ممطور الأسود الحبشي، أبو سلام
Newممطور الأسود الحبشي ← الحارث الأشعري
ثقة يرسل
👤←👥زيد بن سلام الحبشي
Newزيد بن سلام الحبشي ← ممطور الأسود الحبشي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← زيد بن سلام الحبشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد
Newهدبة بن خالد القيسي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة
👤←👥عمران بن موسى الجرجاني، أبو إسحاق
Newعمران بن موسى الجرجاني ← هدبة بن خالد القيسي
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 6233 in Urdu