صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
100. باب بدء الخلق - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا خبر أبي سعيد الخدري بأن هذا الفعل إنما زجر عنه إذا كان ذلك على التفاخر لا على التداين-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو ہماری ابو سعید خدری کی خبر کی تاویل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ فعل اس وقت منع ہے جب فخر کی بنا پر ہو نہ کہ قرض دینے کی بنا پر
حدیث نمبر: 6240
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا، وَيَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا. فَقَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلا يَسْتَفِزَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ، لأَنَّ الْقَائِلَ قَالَ: وَيَا ابْنَ سَيِّدِنَا، فَتَفَاخَرَ بِالآبَاءِ الْكُفَّارِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے ہمارے سب سے بہتر فرد اور اے سب سے بہتر فرد کے صاحب زادے، اے ہمارے سردار اور اے ہمارے سردار کے صاحب زادے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اپنے محاورے کے مطابق بات چیت کیا کرو اور شیطان تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کر دے، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ قائل نے یہ کہا تھا: اے ہمارے سردار، تو یہ کفار آباؤ اجداد پر فخر کرنے کا مفہوم لیے ہوئے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6240]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6240، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10006، 10007، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12746» «رقم طبعة با وزير 6207»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (99/ 127).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6240 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري