الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
104. باب بدء الخلق - ذكر الموضع الذي سر فيه جملة من الأنبياء بالحجاز-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وہ مقام جہاں حجاز میں کئی انبیاء گزرے
حدیث نمبر: 6244
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: عَدَلَ إِِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ؟ فَقُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهَا، فَقَالَ: هَلْ غَيْرُ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لا، مَا أَنْزَلَنِي غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِذَا كُنْتَ بَيْنَ الأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى، وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ، بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا" .
محمد بن عمران انصاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مڑ کر میری طرف دیکھا میں اس وقت مکہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کئے ہوئے تھا۔ انہوں نے دریافت کیا تم اس بڑے کے نیچے کیوں پڑاؤ کئے ہوئے ہو۔ میں نے کہا: میں اس کے سائے میں آنا چاہ رہا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ بھی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں اس کے علاوہ کسی اور چیز نے مجھے پڑاؤ پر مجبور نہیں کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”جب تم منی کے دو پہاڑوں کے درمیان ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: وہاں ایک وادی ہے جس کا نام ”سرر“ ہے۔ وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر [70] انبیاء نے پڑاؤ کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6244]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6211»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (2701).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عمران الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي