صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
213. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم عند الوجود كان يتنكب السرف في أسباب الأكل وكذلك يأمر أهله-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے کے اسباب موجود ہوتے تو اسراف سے گریز کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی حکم دیتے
حدیث نمبر: 6360
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ : هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟، فَقَالَ سَهْلٌ: " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ"، فَقُلْتُ: هَلْ كَانَتْ لَكُمْ مَنَاخِلُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلا مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ، غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ، كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ مِنْهُ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ، فَأَكَلْنَاهُ" .
ابوحازم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھائی ہے؟ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، اس وقت سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں دیکھی (یعنی نہیں کھائی)۔ میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں آپ لوگوں کے پاس چھاننیاں ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اس وقت سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھاننی کبھی نہیں دیکھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا، تو پھر آپ چھانے بغیر جَو کیسے کھا لیتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم اس میں پھونک مارتے تھے، جو چیز اڑنی ہوتی تھی وہ اڑ جاتی تھی اور جو باقی بچتی تھی، اسے ہم گوندھ لیتے تھے اور کھا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6360]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5410، 5413، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6347، 6360، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11788، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2364، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23277» «رقم طبعة با وزير 6326»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (6313). تنبيه!! رقم (6313) = (6347) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6360 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي