صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
34. باب حسن الظن بالله تعالى - ذكر البيان بأن من أحسن بالمعبود كان له عند ظنه ومن أساء به الظن كان له عند ذلك
اللہ پر حسن ظن کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص اپنے معبود پر اچھا گمان رکھتا ہے اسے اس کے گمان کے مطابق ملتا ہے، اور جو اس پر برا گمان رکھتا ہے اسے اس کے مطابق ملتا ہے
حدیث نمبر: 641
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ: خَرَجْتُ عَائِدًا لِيَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ فَلَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ وَهُوَ يُرِيدُ عِيَادَتَهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى وَاثِلَةَ، بَسَطَ يَدَهُ، وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ وَاثِلَةُ حَتَّى جَلَسَ، فَأَخَذَ يَزِيدُ بِكَفَّيْ وَاثِلَةَ، فَجَعَلَهُمَا عَلَى وَجْهِهِ، فقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ : كَيْفَ ظَنُّكَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: ظَنِّي بِاللَّهِ وَاللَّهِ حَسَنٌ، قَالَ: فَأَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ خَيْرًا، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا" .
حیان ابونضر بیان کرتے ہیں: میں یزید بن اسود کی عیادت کرنے کے لئے روانہ ہوا، تو میری ملاقات سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوئی وہ بھی ان کی عیادت کے لئے جا رہے تھے ہم یزید کے پاس پہنچے جب انہوں نے سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، تو اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور ان کی طرف اشارہ کرنے لگے۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ آگے ہوئے اور تشریف فرما ہوئے، تو یزید نے سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے اور ان دونوں کو اپنے چہرے پر رکھا۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا:اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہارا گمان کیا ہے؟ یزید نے کہا: اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرا گمان اچھا ہے، تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم خوشخبری قبول کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ خواہ وہ بھلائی کا گمان رکھے خواہ وہ برائی کا گمان رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 633، 634، 635، 641، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7698، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2773، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16263» «رقم طبعة با وزير 640»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر (632). تنبيه!! رقم (632) = (633) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 641 in Urdu
حيان الأسدي ← واثلة بن الأسقع الليثي