علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
260. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر العلم الذي جعل الله جل وعلا لصفيه صلى الله عليه وسلم الذي إذا ظهر له يجب أن يسبحه ويحمده ويستغفره-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر اس علم کا جو اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کہ جب وہ ظاہر ہو تو انہیں تسبیح، حمد اور استغفار کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 6411
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ قَبْلَ مَوْتِهِ أَنْ يَقُولَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَأَتُوبُ إِِلَيْهِ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّكَ لِتُكْثِرَ مِنْ دُعَاءٍ، لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" إِِنَّ رَبِّي جَلَّ وَعَلا أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَيُرِينِي عِلْمًا فِي أُمَّتِي، فَأَمَرَنِي إِِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعِلْمَ أَنْ أُسَبِّحَهُ، وَأَحْمَدَهُ، وَأَسْتَغْفِرَهُ، وَإِِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، فَتْحُ مَكَّةَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال سے کچھ عرصہ پہلے بکثرت «سُبْحَانَ الله وَبِحَمْدِهِ، اسْتَغْفِرُ اللهَ، وَاتُوبُ إِلَيْهِ» پڑھا کرتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ یہ دعا بکثرت پڑھتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے آپ یہ دعا نہیں پڑھا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ عنقریب مجھے میری اُمت کے بارے میں نشانی دکھا دے گا۔ اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ جب میں یہ نشانی دیکھ لوں تو اس کی تسبیح بیان کروں۔ اس کی حمد بیان کروں اور اس سے مغفرت طلب کروں، تو میں نے وہ چیز دیکھ لی ہے۔ (وہ یہ آیت ہے) ”جب اللہ کی مدد اور آ گئی“ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6411]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ یہ دعا بکثرت پڑھتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے آپ یہ دعا نہیں پڑھا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ عنقریب مجھے میری اُمت کے بارے میں نشانی دکھا دے گا۔ اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ جب میں یہ نشانی دیکھ لوں تو اس کی تسبیح بیان کروں۔ اس کی حمد بیان کروں اور اس سے مغفرت طلب کروں، تو میں نے وہ چیز دیکھ لی ہے۔ (وہ یہ آیت ہے) ”جب اللہ کی مدد اور آ گئی“ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6411]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 794، 817، 4293، 4967، 4968، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 484، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 605، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1929، 1930، 6411، 6412، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 877، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 889، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24699» «رقم طبعة با وزير 6377»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (2/ 50).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6411 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق