صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. باب الخوف والتقوى - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أولاد فاطمة لا يضرهم ارتكاب الحوبات في الدنيا
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹوں کو دنیا میں گناہ کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 646
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فقَالَ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلا نَفْعًا وَلِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لا أَمْلِكُ لَكِ ضَرًّا وَلا نَفْعًا، إِلا أَنَّ لَكِ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلالِهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا مَنْسُوخٌ، إِنَّ فِيهِ أَنَّهُ لا يَشْفَعُ لأَحَدٍ، واخْتِيَارُ الشَّفَاعَةِ كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اکٹھا کیا اور فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمہارے حوالے سے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہیں ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد مناف کی اولاد سے بھی یہی بات کہی، عبد المطلب کی اولاد سے بھی یہی بات کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ! تم اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہوں، البتہ میری تمہارے ساتھ رشتے داری ہے، اس کا فائدہ میں تمہیں پہنچاؤں گا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منسوخ ہے، کیونکہ اس میں تو یہ مذکور ہے کہ کوئی شخص کسی کے لیے شفاعت نہیں کرے گا، لیکن (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) بعد میں مدینہ منورہ میں شفاعت کا اختیار مل گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2752، 2753، 3527، 4771، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 646، 6549، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3646، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3185، 3185 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2774، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12772، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8518» «رقم طبعة با وزير 645»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3177): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير حكيم بن سيف الرقي، فقد روى له أبو داود والنسائي، وهو صدوق.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 646 in Urdu
موسى بن طلحة القرشي ← أبو هريرة الدوسي