🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
324. باب الحوض والشفاعة - ذكر وصف قوله صلى الله عليه وسلم وأول شافع وأول مشفع-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر وصف کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "سب سے پہلے شافع اور سب سے پہلے مشفع" کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6476
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ ، عَنْ وَالانَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ، حَتَّى إِِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَ مَكَانَهُ، حَتَّى صَلَّى الأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، كُلُّ ذَلِكَ لا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ النَّاسُ لأَبِي بَكْرٍ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" نَعَمْ، عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَجُمِعَ الأَوَّلُونَ وَالآخَرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ حَتَّى انْطَلِقُوا إِِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ، فَقَالُوا: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، فَقَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ، فَانْطَلِقُوا إِِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ، إِِلَى نُوحٍ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ سورة آل عمران آية 33، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، فَإِِنَّهُ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ، فَلَمْ يَدَعْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِِلَى إِِبْرَاهِيمَ، فَإِِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ خَلِيلا، فَيَأْتُونَ إِِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِِلَى مُوسَى، فَإِِنَّ اللَّهَ قَدْ كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، فَيَقُولُ مُوسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَإِِنَّهُ يُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَيَقُولُ عِيسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِِلَى سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ، فَإِِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، انْطَلِقُوا إِِلَى مُحَمَّدٍ، فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِِلَى رَبِّكُمْ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ، وَآتِي جِبْرِيلَ، فَيَأْتِي جِبْرِيلُ رَبَّهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِِذَا نَظَرَ إِِلَى رَبِّهِ، خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ بِضَبْعَيْهِ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، جَعَلْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ، حَتَّى إِِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الأَنْبِيَاءَ، فَيَجِيءُ النَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا، فَإِِذَا فَعَلَتِ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ، يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ كَانَ لا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: انْظُرُوا فِي النَّارِ، هَلْ فِيهَا مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلا، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتُ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ، فَيَقُولُ اللَّهُ: اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِِسْمَاحِهِ إِِلَى عَبِيدِي، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ آخَرُ، يُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أَمَرْتُ وَلَدِي، إِِذَا مِتُّ فَاحْرِقُونِي بالنَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُونِي، حَتَّى إِِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ، فَاذْهَبُوا بِي إِِلَى الْبَحْرِ، فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ، فَقَالَ اللَّهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِِلَى مُلْكٍ أَعْظَمِ مُلْكٍ، فَإِِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: لِمَ تَسْخَرُ بِي، وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ فَذَلِكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى" ، قَالَ إِِسْحَاقُ: هَذَا مِنْ أَشْرَفِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثُ عِدَّةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، مِنْهُمْ: حُذَيْفَةُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَغَيْرُهُمْ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ بِإِِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت فجر کی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے۔ جب چاشت کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کر لیں۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔ لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اللہ کے رسول سے دریافت کریں کیا معاملہ ہے، آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا طرزعمل اختیار کیا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں میرے سامنے وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جو دنیا اور آخرت کے اعتبار سے آگے ہوں گی تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے وہ یہ کہیں گے اے سیدنا آدم علیہ السلام آپ انسانوں کے جدامجد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا۔ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، تو سیدنا آدم علیہ السلام یہ کہیں گے مجھے بھی اسی طرح کی صورتحال درپیش ہے جو تم کو درپیش ہے۔ تم لوگ اپنے ایک باپ کے بعد والے دوسرے باپ (یعنی سیدنا نوح علیہ السلام کی طرف جاؤ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے) بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو تمام جہانوں میں منتخب کر لیا ہے۔
تو لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا تھا۔ اس نے آپ کی دعا کو مستجاب بھی کیا تھا، یہاں تک کہ زمین پر کوئی بھی کافر بستا ہوا نہیں رہا تھا، تو سیدنا نوح علیہ السلام کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا۔ تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل بنایا تھا، تو لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ یہ کہیں گے کہ میں یہ نہیں کر سکتا تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کلام کا شرف عطا کیا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیا کرتے تھے۔ وہ مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا۔ تم لوگ ان کے پاس جاؤ جو تمام اولاد آدم کے سردار ہیں۔ قیامت کے دن سب سے پہلے انہی کے لیے زمین کو شق کیا گیا۔ تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ تاکہ وہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کریں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ (میری طرف) آئیں گے۔ میں جبرائیل کے پاس جاؤں گا۔ جبرائیل اپنے پروردگار کے پاس جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) اجازت دو اور اسے جنت کی خوش خبری دو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر جائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے جائیں گے جو تقریباً ایک ہفتے جتنا ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: محمد اپنے سر کو اٹھاؤ، تم بولو سنا جائے گا۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے جب وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے تو دوبارہ سجدے میں چلے جائیں گے جو پورے ایک ہفتے جتنا طویل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنا سر اٹھاؤ، بولو سنا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر سجدے میں جانے لگیں گے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑ لیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا کے جیسے کلمات القاء کرے گا۔ اس نے اس سے پہلے کسی انسان کو وہ القا نہیں کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تمام اولاد آدم کا سردار بنایا ہے۔ میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا۔ قیامت کے دن سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا گیا۔ میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن حوض کوثر کے پاس آئیں گے۔ وہ صنعاء اور ایلہ کے درمیان جگہ سے زیادہ بڑا ہے پھر یہ کہا: جائے گا صدیق کو بلاؤ تاکہ وہ شفاعت کرے، پھر یہ کہا: جائے گا انبیاء کو بلاؤ، تو کوئی نبی آئے گا، ان کے ساتھ کچھ لوگ ہوں گے، کوئی نبی آئے گا ان کے ساتھ پانچ یا چھ افراد ہوں گے۔ کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہو گا، پھر یہ کہا: جائے گا شہداء کو بلاؤ تاکہ وہ جس کی چاہے شفاعت کریں۔ جب شہداء ایسا کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں تم میری جنت میں ہر اس شخص کو داخل کر دو جو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم میں جائزہ لو، کیا وہاں کوئی ایسا شخص ہے جس نے کبھی کوئی بھلائی کی ہو، تو فرشتوں کو جہنم میں ایک شخص ملے گا۔ اس سے دریافت کیا جائے گا کیا تم نے بھی کوئی بھلائی کی ہے۔ وہ بولے: گا: جی نہیں البتہ میں خرید و فروخت کرتے ہوئے لوگوں سے نرمی سے کام لیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے اس بندے کے ساتھ نرمی کرو۔ جس طرح اس نے میرے بندوں کے ساتھ نرمی کی تھی، پھر ایک اور شخص کو جہنم سے نکالا جائے گا۔ اس سے دریافت کیا جائے گا، تم نے کبھی کوئی بھلائی کی۔ وہ جواب دے گا۔ جی نہیں البتہ میں نے اپنی اولاد کو یہ حکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو تم لوگ مجھے آگ میں جلا دینا اور پھر مجھے پیس دینا، یہاں تک کہ جب میں سرمہ بن جاؤں تو مجھے دریا میں بہا دینا اور اسے ہوا میں اڑا دینا، تو اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ عرض کرے گا: تیرے خوف کی وجہ سے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم دیکھو جو سب سے بڑا ملک ہے تمہیں اس جتنا اور اس جتنا مزید دس گنا علاقہ دیا جاتا ہے، بندہ عرض کرے گا: تو میرے ساتھ کیوں مذاق کر رہا ہے جبکہ تو بادشاہ ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس بات پر میں چاشت کے وقت ہنس پڑا تھا۔
اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: یہ سب سے بہترین حدیث ہے یہ روایت متعدد افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کی ہے جن میں سیدنا حذیفہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات شامل ہیں۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6476]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6442»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (751 و 812).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن نوفل العدوي، أبو هنيدةثقة
👤←👥عمرو بن عيسى العدوي، أبو نعامة
Newعمرو بن عيسى العدوي ← البراء بن نوفل العدوي
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← عمرو بن عيسى العدوي
ثقة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← روح بن عبادة القيسي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← علي بن المديني
ثقة ثبت
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكر
Newأبو بكر الصديق ← الفضل بن الحباب الجمحي
صحابي
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله
Newحذيفة بن اليمان العبسي ← أبو بكر الصديق
صحابي
👤←👥والان بن بهيس العدوي
Newوالان بن بهيس العدوي ← حذيفة بن اليمان العبسي
ثقة
👤←👥البراء بن نوفل العدوي، أبو هنيدة
Newالبراء بن نوفل العدوي ← والان بن بهيس العدوي
ثقة
👤←👥عمرو بن عيسى العدوي، أبو نعامة
Newعمرو بن عيسى العدوي ← البراء بن نوفل العدوي
ثقة
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← عمرو بن عيسى العدوي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة