صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
382. باب المعجزات - ذكر بركة الله جل وعلا في الشيء اليسير من الخير للمصطفى صلى الله عليه وسلم حتى أكل منه الفئام من الناس-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑی سی خیر میں برکت دی حتیٰ کہ اس سے بہت سے لوگوں نے کھایا
حدیث نمبر: 6534
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ مِنْهُ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدَيَّ، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" لِلطَّعَامِ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:" قُومُوا"، قَالَ: فَانْطَلَقُوا، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتِ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ"، فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَآدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًَا أَوْ ثَمَانُونَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی اہلیہ) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نقابت محسوس کی ہے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ کو بھوک لگی ہے تو کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے (جو کھانے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کریں) اس خاتون نے جواب دیا: جی ہاں اس خاتون نے جو کی چند ٹکیاں نکالیں پھر انہوں نے اپنا دوپٹہ لیا اور روٹیاں اس کے کچھ حصے میں لپیٹ دیں اور میری بغل میں دیدیا۔ اس کا کچھ حصہ انہوں نے مجھے اوڑھا دیا اور پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہ لے کر چلا گیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں تشریف فرما پایا۔ آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے۔ میں ان لوگوں کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کھانے کے لیے، میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود افراد سے فرمایا اٹھو۔ راوی کہتے ہیں: یہ سب حضرات روانہ ہو گئے۔ میں ان حضرات کے آگے چلتا ہوا سیدنا ابوطلحہ کے پاس آیا اور اہیں اس بارے میں بتایا تو تو سیدنا ابوطلحہ نے فرمایا: اے ام سلیم رضی اللہ عنہا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ ہمارے پاس تو اتنا کچھ نہیں ہے کہ ہم انہیں کھانا کھلا سکیں تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا ابوطلحہ تشریف لے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تشریف لائے، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات گھر میں داخل ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے پیش کرو تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا وہ روٹیاں لے آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس پر وہ کپی نچوڑ دی جس میں گھی تھا وہ اس کا سالن بن گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا پھر آپ نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔ سیدنا ابوطلحہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر چلے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو گئے تو چلے گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے کے لئے کہو۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی اجازت دی۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو گئے تو چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے کے لئے کہو، یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو کر کھایا ان لوگوں کی تعداد ستر یا شاید اسی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6534]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6500»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري