صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
384. باب المعجزات - ذكر ما بارك الله جل وعلا في تمر جابر بن عبد الله لدعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم فيها بالبركة-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے جابر بن عبد اللہ کی کھجوروں میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا سے برکت دی
حدیث نمبر: 6536
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا، وَلَمْ يَرَوْ أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فأتيت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِِذَا جَدَدْتَهُ، فَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَآذِنِّي"، فَلَمَّا جَدَدْتَهُ، وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ"، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِِلا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ ثَلاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا: سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ، وَسِتَّةٌ لَوْنٌ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" ائْتِ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ"، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُمَا، فَقَالا: إِِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کے ذمے قرض تھا میں نے ان قرض خواہوں کے سامنے یہ پیشکش کی کہ میرے والد کے ذمے جو قرض تھا اس کے عوض میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں لیکن انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کے خیال میں اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہو پاتی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم کھجوریں اتار کر انہیں گودام میں رکھو تو مجھے اطلاع دینا (راوی کہتے ہیں:) جب میں نے ان کو اتار کر انہیں گودام میں (یا سکھانے کی جگہ پر) رکھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (آپ کو اس بارے میں بتایا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کھجوروں کے اس ڈھیر) کے پاس تشریف فرما ہوئے۔ آپ نے برکت کی دعا کی پھر آپ نے فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلا لو اور انہیں پوری ادائیگی کر دو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد کے ذمے واجب الادا تمام قرض ادا کر دیا پھر بھی (کھجوروں کے) تیرہ دست باقی رہ گئے۔ سات وسق عجوہ کھجوروں کے تھے اور چھ وسق لون کھجوروں کے تھے۔ میں نے مغرب کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ آپ نے فرمایا: ابوبکر اور عمر کے پاس جاؤ اور انہیں اس بارے میں بتاؤ میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان دونوں حضرات کو اس بارے میں بتایا تو ان دونوں نے فرمایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عمل کیا تھا۔ اسی وقت ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6536]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6502»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (28 - 29)، «صحيح أبي داود» (2568): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
وهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري