صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
390. باب المعجزات - ذكر البيان بأن الماء الذي ذكرنا حيث بورك للمصطفى صلى الله عليه وسلم فيه كان ذلك في ركوة لا في تور-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے ذکر کردہ پانی جس میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برکت دی گئی وہ تور میں نہیں بلکہ رکوہ میں تھا
حدیث نمبر: 6542
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا، إِِذَا جَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ:" مَا لَكُمْ؟"، فَقَالُوا: مَا لَنَا لا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَلا نَشْرَبُ إِِلا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: " فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الرَّكْوَةِ، وَدَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالَ الْعُيُونِ، قَالَ: فَشَرِبْنَا، وَتَوَضَّأْنَا ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ، لَكَفَانَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حدیبیہ کے موقع پر لوگ پیاس کا شکار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ رکھا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے۔ جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ہمارے پاس وضو کرنے کے لیے (پانی) نہیں ہے اور پینے کے لیے بھی نہیں ہے، صرف وہ پانی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پیالے پر رکھے اور پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی، راوی کہتے ہیں: تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی مانند پانی پھوٹنا شروع ہوا۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے اسے پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہم پندرہ سو لوگ تھے لیکن اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ہمارے لیے کافی ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6542]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3576، 4152، 4153، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1856، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4874، 6540، 6541، 6542، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2885، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3883» «رقم طبعة با وزير 6508»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6542 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري