صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
406. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر كتبة المصطفى صلى الله عليه وسلم كتابه إلى أهل اليمن-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا
حدیث نمبر: 6559
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَحَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ، وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا:" مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، قِيلَ ذِي رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ وَهَمْدَانَ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْغَنَائِمِ خُمُسَ اللَّهِ، وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ، وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ كَانَ سَيْحًا أَوْ بَعْلا، فَفِيهِ الْعُشْرُ إِِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَمَا سُقِيَ بِالرَّشَاءِ، وَالدَّالِيَةِ، فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الإِِبِلِ سَائِمَةً شَاةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلاثِينَ، فَإِِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسَةً وَسَبْعِينَ، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى تِسْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، وَفِي كُلِّ ثَلاثِينَ بَاقُورَةُ تَبِيعُ جِزْعُ أََوْ جَزْعَةٌ، وَفِي كُلِّ أََرْبَعِينَ بَاقُورَةُ بَقَرَةٍ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةً وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِئَتَانِ، فَإِِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَثَلاثَةُ شِيَاهٍ إِِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلاثَ مِائَةٍ، فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، وَلا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلا عَجْفَاءُ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسُ الْغَنَمِ، وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خِيفَةَ الصَّدَقَةَ، وَمَا أُخِذَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ، فَإِِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمٍ، فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ" ." وَإِِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلا لأَهْلِ بَيْتِهِ، وَإِِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ فِي فُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَيْسَ فِي رَقِيقٍ وَلا مَزْرَعَةٍ وَلا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِِذَا كَانَتْ تُؤَدَّى صَدَقُتُهَا مِنَ الْعُشْرِ، وَلَيْسَ فِي عَبْدِ الْمُسْلِمِ وَلا فَرَسِهِ شَيْءٌ" ." وَإِِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الإِِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ الْحَقِّ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ، وَتَعَلُّمُ السَّحَرِ، وَأَكَلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ" ." وَإِِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الأَصْغَرِ" ." وَلا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِِلا طَاهِرٌ" ." وَلا طَلاقَ قَبْلَ إِِمْلاكٍ، وَلا عِتْقَ حَتَّى يُبْتَاعَ" . " وَلا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَلا يَحْتَبِيَنَّ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ، وَلا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ عَاقِصًا شَعْرَهُ" ." وَإِِنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلا عَنْ بَيِّنَةٍ، فَهُوَ قَوَدٌ، إِِلا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ" ." وَإِِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي الأَنْفِ إِِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنَ الأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الإِِبِلِ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ" ، لَفْظُ الْخَبَرِ لِحَامِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ هَذَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْخَوْلانِيُّ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ لا شَيْءَ، وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک مکتوب بھجوایا جس میں فرائض، سنن اور دیت کے متعلق کچھ احکام تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ذریعے وہ مکتوب بھجوایا تھا، وہ اہل یمن کے سامنے پڑھا گیا اس کا نسخہ یہ ہے (یعنی اس میں یہ تحریر تھا): ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی کی طرف سے شرحبیل بن عبدکلال، حارث بن عبدکلال اور نعیم بن عبدکلال کی طرف ہے۔ «أَمَّا بَعْدُ!» ”اما بعد!“ تمہارا پیغام رساں واپس جا چکا ہے، تمہیں جو غنیمت عطا کی گئی اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر زمین کے عشر کے حوالے سے لازم قرار دیا ہے (وہ تمہیں بھی ادا کرنا ہو گا)؛ جو زمین بارش کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا بہتے ہوئے پانی کے ذریعے سیراب ہوتی ہے یا اس کی جڑیں زمین سے پانی کھینچ لیتی ہیں، اس میں عشر کی ادائیگی لازم ہو گی جب (اس کی پیداوار) پانچ وسق تک پہنچ جائے اور جسے ڈول کے ذریعے یا مصنوعی طور پر سیراب کیا جائے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی جب (اس کی پیداوار) پانچ وسق ہو جائے۔ ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد چوبیس ہو جائے؛ جب وہ چوبیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر بنت مخاض نہیں ملتی تو ابن لبون نر کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 35 ہو جائے؛ جب وہ 35 سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 45 ہو جائیں؛ جب وہ 45 سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی جو جفتی کے قابل ہو، یہاں تک کہ ان کی تعداد 60 ہو جائے؛ جب ان اونٹوں کی تعداد ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 75 ہو جائے؛ جب وہ 75 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 90 تک پہنچ جائیں؛ جب وہ 90 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی جو جفتی کے قابل ہوں، ان کی ادائیگی کی جائے گی۔ ہر 30 (گایوں) میں باقورہ ہو گا۔ ہر 40 سائمہ بکریوں میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 120 ہو جائے۔ جب وہ 120 سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں تو ان میں 2 بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد 200 ہو جائے اور اگر ایک بھی زیادہ ہو تو تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ 300 تک پہنچ جائیں، پھر اگر وہ اس سے زائد ہوں تو ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زکات میں بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور وصول نہیں کیا جائے گا اور زکات سے بچنے کے لیے متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔ دو شراکت داروں سے جو کچھ وصول کیا جائے گا تو اس کی (واپسی کی) ادائیگی ان دونوں میں برابری کی بنیاد پر کی جائے گی اور پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، جو اس سے زیادہ ہو تو ہر 40 درہم میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، لیکن پانچ اوقیہ سے کم میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔ ہر 40 دینار میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی۔ بے شک صدقہ (یعنی زکات) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گھر والوں کے لیے حلال نہیں ہے، یہ وہ زکات ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کر لو گے۔ یہ اہل ایمان کے غریب لوگوں کو دی جائے گی اور اللہ کی راہ میں دی جائے گی۔ غلام میں، کھیت میں اور وہاں کام کرنے والوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی جب کہ (کھیت) کا عشر ادا کر دیا گیا ہو اور مسلمان کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں کوئی چیز (زکات) لازم نہیں ہوتی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑے کبیرہ گناہ: کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا، کسی مومن شخص کو ناحق طور پر قتل کرنا، جنگ کے دن اللہ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) فرار اختیار کرنا، والدین کی نافرمانی، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا (شامل ہیں)۔ عمرہ چھوٹا حج ہے، قرآن کو صرف پاک شخص ہاتھ لگائے، اور مالک ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی، اور (غلام کو) اس وقت تک آزاد نہیں کیا جا سکتا جب تک اسے خرید نہ لیا جائے، اور کوئی بھی شخص ایک کپڑا پہن کر ہرگز نماز ادا نہ کرے کہ اس کے کندھے پر کوئی چیز نہ ہو، اور کوئی بھی ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر اس طرح نہ لپیٹے کہ اس کے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز نہ ہو (یعنی اس کی شرمگاہ پر پردہ نہ ہو)، کوئی بھی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس کا ایک پہلو ظاہر ہو رہا ہو، اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ہرگز ادا نہ کرے کہ اس نے اپنے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو۔ اور جو شخص کسی مومن کو قتل کرنے کے جرم میں پکڑا جاتا ہے اور ثبوت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، البتہ اگر مقتول کے ورثاء راضی ہوں (تو حکم مختلف ہو گا)۔ بے شک جان کی دیت 100 اونٹ ہے؛ جب ناک کو مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو اس میں بھی (مکمل) دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زبان (کاٹنے میں) دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں ہونٹوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں خصیوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ عضو تناسل میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ پشت میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دونوں آنکھوں میں دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ ایک ٹانگ میں نصف دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ مامومہ (زخم میں) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جائفہ (زخم میں) ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ منقلہ (زخم میں) پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی میں دس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ دانت میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ موضحہ زخم میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ آدمی کو عورت کے بدلے میں قتل کر دیا جائے گا، اور سونے کا لین دین کرنے والوں میں (دیت کی شکل میں) ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم ہو گی۔”روایت کے الفاظ حامد بن محمد بن شعیب کے نقل کردہ ہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلیمان بن داؤد نامی راوی سلیمان بن داؤد خولانی ہیں، یہ اہل دمشق سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ثقہ اور مامون ہیں جب کہ سلیمان بن داؤد یمامی نامی راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان دونوں راویوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6559]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 847، 849، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6559، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1450، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4868، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 411، 1501، والدارقطني فى (سننه) برقم: 438، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 56» «رقم طبعة با وزير 6525»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (122)، «المشكاة» (465). * [بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم] قال الشيخ: سقطت مِنَ الأصل، ومِن «طبعة المؤسسة» - أيضا - (14/ 501)! واستدركُتها من «الموارد» (793)، و «المستدرك» (1/ 395)، و «سنن البيهقي» (4/ 89) - وقد أخرجاه بتمامه -. وقد خَفِيَ هذا على مُحقِّق «إحسان المؤسسة»! مع أَنَّهُ أَحسنَ تخريجه واستوعبه!! تنبيه!! البسملة التي بين المعقوفين من «طبعة باوزير» وغير موجود في «طبعة المؤسسة» وانظر إلى تعليق الشيخ عليها. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6559 in Urdu
محمد بن عمرو الأنصاري ← عمرو بن حزم الأنصاري