صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
425. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر عناد بعض أهل الكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ اہل کتاب میں سے بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عناد کیا
حدیث نمبر: 6580
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" يَا فُلانُ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" وَالإِِنْجِيلَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" وَالْقُرْآنَ"، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ أُنْشِدَهُ، فَقَالَ: " تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالإِِنْجِيلِ؟"، قَالَ: نَجْدُ مِثْلَكَ، وَمَثَلَ أُمَّتِكَ، وَمَثَلَ مُخْرِجَكَ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ فِينَا، فَلَمَّا خَرَجْتَ، تَخَوَّفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ، فَنَظَرْنَا، فَإِِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ، قَالَ:" وَلِمَ ذَاكَ؟" قَالَ: إِِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلا عِقَابَ، وَإِِنَّ مَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ، قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لأَنَا هُوَ، وَإِِنَّهَا لأُمَّتِي، وَإِِنَّهُمْ لأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا، وَسَبْعِينَ أَلْفًا، وَسَبْعِينَ أَلْفًا" .
سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف دیکھا جو مسجد میں چل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم تورات کی تلاوت کرتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”انجیل کی؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”قرآن کی؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر میں چاہوں تو اس کا علم بھی حاصل کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم نے میرا ذکر تورات اور انجیل میں پایا ہے؟“ تو اس نے بتایا: ہمیں (تورات میں) آپ کا، آپ کی اُمت کا، آپ کے نکلنے کا (یا ہجرت کے مقام کا) ذکر ملتا ہے اور ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمارے درمیان (یعنی یہودیوں کے درمیان) مبعوث ہوں گے، لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ وہ آپ نہ ہوں، لیکن جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو وہ آپ نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نبی کے ہمراہ ان کی اُمت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر کوئی حساب نہیں ہوگا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہوگا، جب کہ آپ کے ساتھ تو بہت تھوڑے سے لوگ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ (نبی جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ہے) وہ میں ہی ہوں اور یہ میری اُمت ہے اور (اس کے جنت میں داخل ہونے والے) لوگوں کی تعداد (ستر ہزار اور مزید ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ ہوگی۔)“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6580]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6580، والبزار فى (مسنده) برقم: 3700، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3855، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 854، 855» «رقم طبعة با وزير 6546»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ] قال الشيخ: وكذا في الطبعة الأخرى! وفي «الموارد»: (سلام)، وهو الصواب، وقد نسبه المُؤلِّف إلى جَدِّهِ، واسم أبيه: (مُنيب)، وهو ثقه مترجم في «التهذيب». ولم يتفرَّد به، فقال عفان: ثنا عبد الواحد بن زياد ... به. وأخرجه البزَّار (4/ 207 / 3544)، والطبراني (18/ 332 / 854)، وقرن هذا بعفان: يحيى الحِمَّانِي. فصحَّ الإسنادُ، والحمدُ لله. وتابعه صالحُ بنُ عمر: عند الطبراني، والبيهقي في «الدلائل» (6/ 273). وصالح: هو الواسطيُّ، ثِقَه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6580 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← الفلتان بن عاصم الجرمي