🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
446. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم في هذه الصلاة كان قاعدا وأبو بكر والناس قيام خلفه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ اس نماز میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور ابو بکر اور لوگ ان کے پیچھے کھڑے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6602
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟"، فَقُلْتُ: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ"، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ مَاءً فَأَفَاقَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟"، قُلْنَا: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًَا إِِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ لَهُ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ رَجُلا رَقِيقًا أَوْ رَفِيقًا: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَفَعَلَ، وَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، ثُمَّ إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِِلَيْهِ أَنْ لا يَتَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُمَا:" أَجْلِسَانِي إِِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ"، فَأَجْلَسَاهُ إِِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ تُسَمِّ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ فَقُلْتُ: لا، فَقَالَ: هُوَ عَلِيٌّ.
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ میں نے عرض کی کہ جی نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے لیے کسی بڑے برتن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے عرض کی کہ جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشاء کی نماز کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، وہ پیغام رساں ان کے پاس آیا اور اس نے ان سے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، جو ایک نرم دل اور مہربان شخص تھے، انہوں نے کہا کہ اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیجیے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، ان ایام میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے، ان میں سے ایک سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان سے فرمایا: مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو۔ چنانچہ ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے، حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان نہ کروں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث انہیں سنائی، انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا، تاہم انہوں نے یہ فرمایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہارے سامنے اس دوسرے شخص کا نام نہیں لیا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے جواب دیا کہ جی نہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6602]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6568»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه ثبت
👤←👥موسى بن أبي عائشة الهمداني، أبو الحسن، أبو بكر
Newموسى بن أبي عائشة الهمداني ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
ثقة يرسل
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← موسى بن أبي عائشة الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 6602 in Urdu