صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
469. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن الثوب الذي سجي به صلى الله عليه وسلم لم يكفن فيه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر بیان کہ اس کپڑے سے جو صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالا گیا انہیں کفن نہیں کیا گیا
حدیث نمبر: 6626
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ، ثُمَّ أُخِّرَ عَنْهُ" ، قَالَ الْقَاسِمُ: إِِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کے اصحاب کو غم نے گھیر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے بارے میں ان کے درمیان سوچ پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا: کیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی اسی طرح اتاریں گے جس طرح ہم اپنے مرحومین کے کپڑے اتارتے ہیں یا پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کی ان میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جس نے اپنا سر اٹھایا ہوا ہو (یعنی ہر شخص اونگھ رہا تھا) اسی دوران گھر میں سے کسی منادی نے یہ پکار کر کہا:۔ لوگوں کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کون تھا (اس نے یہ کہا:) تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے کپڑوں سمیت غسل دو۔
سیده عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا جبکہ آپ کی قمیص آپ کے جسم پر موجود تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں مجھے بعد میں جس بات کا خیال آیا اگر وہ پہلے آ جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل صرف آپ کی ازواج دیتیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6626]
سیده عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا جبکہ آپ کی قمیص آپ کے جسم پر موجود تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں مجھے بعد میں جس بات کا خیال آیا اگر وہ پہلے آ جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل صرف آپ کی ازواج دیتیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6626]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6592»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 64).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق