صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
471. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم ير منه في غسله ما يرى من سائر الموتى-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل میں وہ چیزیں نہیں دیکھی گئیں جو دوسرے مردوں میں دیکھی جاتی ہیں
حدیث نمبر: 6628
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا اجْتَمَعُوا لِغُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا بَيْنَهُمْ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَوْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟! قَالَتْ: فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ، حَتَّى إِِنَّ مِنْهُمْ مِنْ رَجُلٍ إِِلا ذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَيْتِ مَا يَدْرُونَ مَا هُوَ: أَنِ اغْسِلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، قَالَ: فَوَثَبُوا إِِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ يَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَيُدْلُكُونَهُ مِنْ وَرَاءِ الْقَمِيصِ، وَكَانَ الَّذِي أَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَسْنَدَهُ إِِلَى صَدْرِهِ، قَالَتْ: فَمَا رُئِيَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مِمَّا يُرَى مِنَ الْمَيِّتِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے لیے اکٹھے ہوئے تو ان کا اختلاف ہو گیا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی اسی طرح اتاریں جس طرح اپنے فوت شدگان کے کپڑے اتارتے ہیں یا پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپڑے رہنے دیں اور اسی حالت میں آپ کو غسل دے دیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے موجود ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی، پھر گھر کے کسی گوشے سے کسی منادی نے آواز دی، لوگوں کو پتا نہیں چل سکا کہ وہ کون ہے، اس نے کہا: تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دو یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص آپ کے جسم پر موجود ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو ان سب لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں غسل دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص آپ کے جسم پر موجود تھی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلتے رہے اور قمیص کے نیچے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو ملتے رہے۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا اور انہوں نے اپنے سینے کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک دی ہوئی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی ایسی چیز دکھائی نہیں دی جو میت کی طرف سے دکھائی دیتی ہے (یعنی آپ کے جسم سے کوئی بول یا براز خارج نہیں ہوا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6628]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 566، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6627، 6628، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4423، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3141، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1464، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6717، 6718، 6766، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26947» «رقم طبعة با وزير 6594»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الأحكام» - أيضاً -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6628 in Urdu
عباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق