صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
494. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن هذه اللفظة ثلاثين كذابا إنما هي من كلام المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ تیس کذابوں کی لفظ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہے
حدیث نمبر: 6651
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ دَجَّالُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ الْقَتْلُ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیلمہ کذاب کے بارے میں کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے لوگ بکثرت اس کے معاملے میں بات چیت کیا کرتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: امابعد! جہاں تک اس شخص کے معاملے کا تعلق ہے جس کے معاملے میں تم لوگ اکثر گفتگو کر رہے ہوتے ہو۔ دجال سے پہلے ظاہر ہونے والے 30 کذابوں میں سے یہ ایک کذاب ہے اور دجال کا فتنہ ہر شہر میں داخل ہو گا۔ صرف مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ اس کے ہر داخلے پر دو فرشتے تعینات ہیں جو دجال کے رسوخ کو اس سے دور کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6651]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6617»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1683).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي