🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
509. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف موت أم حرام بنت ملحان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ام حرام بنت ملحان کی موت کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6667
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَطْعَمَتْهُ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ يَشُكُّ أَيُّهُمَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ، فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کرتی تھیں۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا جو اللہ کی راہ میں غزوے کے لیے جائیں گے، وہ اس سمندر کی پشت پر یوں سوار ہوں گے جس طرح بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں غزوے کے لیے نکلیں گے۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کلمات ارشاد فرمائے جو پہلے فرمائے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، جب وہ سمندر سے واپس باہر تشریف لائیں اور اپنی سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے نیچے گر گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6667]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2788، 2799، 2877، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4608، 6667، 7189، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8765، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3171، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2490، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1645، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2465، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2776، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8759، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13724» «رقم طبعة با وزير 6632»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4589). تنبيه!! رقم (4589) = (4608) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر
Newعمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 6667 in Urdu