صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
510. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن إخراج الناس أبا ذر الغفاري من المدينة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ لوگوں نے ابو ذر غفاری کو مدینہ سے نکالا
حدیث نمبر: 6668
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: أَلا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي، قَالَ: " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهُ؟ قُلْتُ: مَا أَصْنَعُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَضْرِبُ بِسَيْفِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ذَلِكَ وَأَقْرَبُ رُشْدًا، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت مسجد نبوی میں سویا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے ذریعے مجھے مارا اور ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں یہاں سویا ہوا دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری آنکھ لگ گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہیں اس میں سے نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں اپنی تلوار کے ذریعے لڑائی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو اور ہدایت کے زیادہ قریب ہو؟ تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور وہ تمہیں جہاں جانے کے لیے کہیں، تم وہاں چلے جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6668]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6668، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1439، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21778» «رقم طبعة با وزير 6633»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن بما بعده - «الظلال» (1074).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6668 in Urdu
أبو سعد الغفاري ← أبو ذر الغفاري