صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
539. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن أمن الناس عند ظهور الإسلام في جزائر العرب-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ جب جزائر عرب میں اسلام ظاہر ہوگا تو لوگ امن میں ہوں گے
حدیث نمبر: 6698
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: شَكَوْنَا إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: أَلا تَسْتَنْصِرُ لَنَا، أَلا تَدْعُو لَنَا؟ فَقَالَ: " قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهَا فَيُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ، فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ، فَيُجْعَلُ بِنِصْفَيْنِ، وَيُمَشَّطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ فِيمَا دُونَ عَظْمِهِ وَلَحْمِهِ، فَمَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى حَضْرَمَوْتَ، لا يَخَافُ إِِلا اللَّهَ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ" .
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (قریش کی طرف سے پیش آنے والی مشکل صورت حال) کی شکایت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی: آپ ہمارے لیے مدد کی دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں میں سے کسی شخص کو پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین کو کھودا جاتا تھا، اس کے بعد اس شخص کو اس میں ڈال دیا جاتا تھا، پھر ایک آرا لایا جاتا تھا، اسے اس کے سر پر رکھا جاتا تھا، اس شخص کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اور لوہے کی بنی ہوئی کنگھی لا کر اس کی ہڈیوں اور گوشت کے اندر تک پھیری جاتی تھی لیکن یہ چیز بھی ان کو ان کے دین سے نہیں پھیر سکی۔ اللہ کی قسم! یہ معاملہ ضرور مکمل ہو گا یہاں تک کہ ایک سوار شخص صنعاء سے چلے گا اور حضرموت جائے گا، اسے صرف اللہ تعالیٰ کا خوف ہو گا یا اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہو گا لیکن تم لوگ جلد بازی چاہتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6698]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3612، 3852، 6943، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2897، 6698، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17793، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21442» «رقم طبعة با وزير 6663»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2381): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6698 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← خباب بن الأرت التميمي