صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
71. باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر وصف الغنى الذي وصفناه قبل
فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس دولت کی حالت کا ذکر جو ہم نے پہلے بیان کی
حدیث نمبر: 680
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نِصْفَ النَّهَارِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ، فقَالَ: سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ غَيْرَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ، ثَلاثٌ لا يُغَلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلاةِ الأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا نِيَّتَهُ فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلا مَا كُتِبَ لَهُ، وَمَنْ كَانَتِ الآخِرَةُ نِيَّتَهُ جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ" .
عبدالرحمن بن ابان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے اٹھ کر باہر آئے، تو میں نے سوچا یہ اس وقت ضرور کسی ایسے کام کے سلسلے میں گئے ہوں گے کہ جو مروان ان سے دریافت کرنا چاہتا ہوگا، میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس نے ہم سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں۔ (سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اسے خوش رکھے جو ہم سے حدیث سنے اور پھر اسے دوسرے تک پہنچا دے، کیونکہ بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص اس شخص تک اسے منتقل کر دیتا ہے جو اس سے زیادہ علم والا ہوتا ہے اور بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا، تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان کا دل دھوکہ نہیں دیتا: عمل کا اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہونا، مسلمان حکمرانوں کے لیے خیر خواہی اور ان کی جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ ان کی دعا غیر موجود لوگوں تک محیط ہوتی ہے، جس شخص کی نیت دنیا ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو متفرق کر دے گا اور اس کی غربت کو اس کے سامنے کر دے گا اور دنیا میں سے اسے صرف وہی کچھ ملے گا جو اس کے نصیب میں لکھا گیا ہے اور جس شخص کی نیت آخرت ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو سمیٹ دے گا، اس کے دل میں خوشحالی ڈال دے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 680]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 67، 680، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5816، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3660، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2656، والدارمي فى (مسنده) برقم: 235، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 230، 4105، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21991» «رقم طبعة با وزير 679»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (950)، «تخريج فقه السيرة» (39)، «التعليق الرغيب» (1/ 64).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أبو داود: سليمان بن داود الطيالسي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 680 in Urdu
أبان بن عثمان الأموي ← زيد بن ثابت الأنصاري