صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. ذكر خبر فيه كالدليل على أن الخليفة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أبو بكر رضي الله عنه دون غيره من أصحابه-
- ذکر خبر جس میں اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے نہ کہ ان کے اصحاب میں سے کوئی اور
حدیث نمبر: 6873
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ بِلالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لا يُسْمِعِ النَّاسَ، لَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لا يُسْمِعِ النَّاسَ، قَالَ: إِِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً مِنْ نَفْسِهِ، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلاهُ تَخُطُّ فِي الأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا أَنْتَ، حَتَّى جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الصَّوَابُ: صَوَاحِبُ يُوسُفَ، إِِلا أَنَّ السَّمَاعَ: صَوَاحِبَاتُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو (تلاوت کی آواز) نہیں سنا سکیں گے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں (تو یہ مناسب ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں نے حفصہ سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گزارش کرو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو (لوگوں کو تلاوت کی آواز نہیں) سنا سکیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ سنی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا تم جس طرح ہو ویسے ہی رہو یہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست لفظ یہ ہے ”صواحب یوسف“ البتہ روایت نقل کرنے والے نے لفظ صواحبات نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6873]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) درست لفظ یہ ہے ”صواحب یوسف“ البتہ روایت نقل کرنے والے نے لفظ صواحبات نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6873]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6834»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 335 / 548): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق