صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
58. ذكر سؤال عثمان بن عفان الصبر على ما أوعد من البلوي التي تصيبه-
- ذکر عثمان بن عفان کا اس آزمائش پر صبر مانگنا جو ان پر آئے گی
حدیث نمبر: 6912
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ مُتَّكِئًا فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَقُولُ بِعُودٍ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ يَنْكُتُ بِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ آخَرُ، فَقَالَ:" افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا هُوَ عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ آخَرُ فَجَلَسَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى"، قَالَ: فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ ، فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ وَقُلْتُ لَهُ الَّذِي قَالَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَبْرًا، أَوْ قَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی کے ذریعے پانی اور مٹی کرید رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا:۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا اور انہیں جنت کی خوشخبری دیدی پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو لیکن اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور انہیں وہ بات بیان کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی تو انہوں نے کہا: اے اللہ (میں تجھ سے) صبر کا سوال کرتا ہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ تعالیٰ سے ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6912]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6873»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو عثمان النهدي ← عبد الله بن قيس الأشعري