صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
66. ذكر مغفرة الله جل وعلا لعثمان بن عفان رضي الله عنه بتسبيله رومة-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو رومہ وقف کرنے پر مغفرت عطا کی
حدیث نمبر: 6920
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَاءَ عُثْمَانُ ، فَقِيلَ: هَذَا عُثْمَانُ، وَعَلَيْهِ مُلَيَّةٌ لَهُ صَفْرَاءُ قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ، قَالَ: هَا هُنَا عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: هَا هُنَا طَلْحَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ أَلْفًا؟ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدِ ابْتَعْتُهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ؟ قَالَ: فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَبْتَاعُ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا، فَقَالَ: اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَجْرُهَا لَكَ؟ قَالَ: فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ: مَنْ جَهَّزَ هَؤُلاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى لَمْ يَفْقِدُوا عِقَالا وَلا خِطَامًا؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلاثًا" .
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں: ہم لوگ مدینہ منورہ آئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے، کہا: گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ہیں انہوں نے زرد رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کے ذریعے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا یہاں علی ہے۔ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا یہاں طلحہ ہے۔ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی کون شخص بنو فلاں کی زمین خریدے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا، تو میں نے بیس ہزار (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 25 ہزار کے عوض میں اسے خریدا تھا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے اسے خرید لیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ہماری مسجد کے لئے دیدو اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو ان حضرات نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی کون شخص (رومہ نامی کنویں کو) خریدے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا، تو میں نے اسے اتنی اتنی رقم کے عوض میں خرید لیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: میں نے اسے خرید لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے مسلمانوں کے لیے (وقف) کر دو اس کا اجر تمہیں ملے گا۔
راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی صورت حال دیکھی اور فرمایا: کون ان لوگوں کو ساز و سامان فراہم کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ان کی مراد غزوہ تبوک تھا (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) تو میں نے ان لوگوں کو ساز و سامان فراہم کیا، یہاں تک کہ انہیں رسی اور لگام تک فراہم کئے، تو لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ ہو جا، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6920]
راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی صورت حال دیکھی اور فرمایا: کون ان لوگوں کو ساز و سامان فراہم کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ان کی مراد غزوہ تبوک تھا (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) تو میں نے ان لوگوں کو ساز و سامان فراہم کیا، یہاں تک کہ انہیں رسی اور لگام تک فراہم کئے، تو لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ ہو جا، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6920]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6881»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6066 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
الرواة الحديث:
الأحنف بن قيس التميمي ← عثمان بن عفان