🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. ذكر وصف تزويج علي بن أبي طالب فاطمة رضي الله عنها وقد فعل-
- ذکر وصف کہ علی بن ابی طالب کا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح، اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6944
أَخْبَرَنَا أَبُو شَيْبَةَ دَاوُدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الإِِسْلامِ وَإِِنِّي وَإِِنِّي، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ، فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِِلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: قَدْ هَلَكْتُ وَأُهْلِكْتُ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: خَطَبْتُ فَاطِمَةَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْتَ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الإِِسْلامِ، وَإِِنِّي وَإِِنِّي، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، فَسَكَتَ عَنْهُ، فَرَجَعَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ: إِِنَّهُ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهَا، قُمْ بِنَا إِِلَى عَلِيٍّ حَتَّى نَأْمُرَهُ يَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْنَا، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيَانِي وَأَنَا أُعَالِجُ فَسِيلا لِي، فَقَالا: إِِنَّا جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ ابْنِ عَمِّكِ بِخِطْبَةٍ، قَالَ عَلِيٌّ: فَنَبَّهَانِي لأَمْرٍ، فَقُمْتُ أَجُرُّ رِدَائِي حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ " قَدْ عَلِمْتَ قِدَمِي فِي الإِِسْلامِ وَمُنَاصَحَتِي، وَإِِنِّي وَإِِنِّي، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، قَالَ: وَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: فَرَسِي وَبَدَنِي، قَالَ: أَمَّا فَرَسُكَ فَلا بُدَّ لَكَ مِنْهُ، وَأَمَّا بَدَنُكَ فَبِعْهَا، قَالَ: فَبِعْتُهَا بِأَرْبَعِ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ، فَجِئْتُ بِهَا حَتَّى وَضَعْتُهَا فِي حِجْرِهِ، فَقَبَضَ مِنْهَا قَبْضَةً، فَقَالَ: أَيْ بِلالُ، ابْتَغِنَا بِهَا طِيبًا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُجَهِّزُوهَا فَجَعَلَ لَهَا سَرِيرًا مُشْرَطًا بِالشَّرْطِ وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: إِِذَا أَتَتْكَ فَلا تُحْدِثْ شَيْئًا، حَتَّى آتِيَكَ، فَجَاءَتْ مَعَ أُمِّ أَيْمَنَ حَتَّى قَعَدَتْ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ وَأَنَا فِي جَانِبٍ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَا هُنَا أَخِي؟ قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أَخُوكَ وَقَدْ زَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ: إِِيتِينِي بِمَاءٍ، فَقَامَتْ إِِلَى قَعْبٍ فِي الْبَيْتِ فَأَتَتْ فِيهِ بِمَاءٍ، فَأَخَذَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: تَقَدَّمِي، فَتَقَدَّمَتْ، فَنَضَحَ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا وَعَلَى رَأْسِهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: أَدْبِرِي، فَأَدْبَرَتْ، فَصَبَّ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِيتُونِي بِمَاءٍ، قَالَ عَلِيٌّ: فَعَلِمْتُ الَّذِي يُرِيدُ، فَقُمْتُ فَمَلأْتُ الْقَعْبَ مَاءً وَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَخَذَهُ وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: تَقَدَّمْ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِي وَبَيْنَ ثَدْيَيَّ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ: أَدْبِرْ، فَأَدْبَرْتُ، فَصَبَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ: ادْخُلْ بِأَهْلِكَ، بِسْمِ اللَّهِ وَالْبَرَكَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خیرخواہی اور میرے قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو پھر کیا ہوا۔ انہوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ میری شادی کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں ہلاکت کا شکار ہو گیا مجھے ہلاکت کا شکار کر دیا گیا۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ کیسے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اپنی جگہ پر رہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاتا ہوں اور وہی گزارش کرتا ہوں جو آپ نے کی تھی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خیرخواہی اور قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو کیا ہوا۔ انہوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی میرے ساتھ شادی کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں آپ ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں، تاکہ وہ وہی گزارش کریں جو ہم نے کی تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ دونوں صاحبان میرے پاس آئے میں اس وقت اپنے کھجور کے چھوٹے درختوں میں کام کر رہا تھا۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپ کے چچازاد (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے پیغام نکاح لے کر آپ کے پاس آئے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں نے مجھے صورت حال کے بارے میں متنبہ کیا تو میں اپنی چادر کو گھسیٹتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا، یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام میں میرے قدیم ہونے اور میری خیرخواہی سے واقف ہیں، میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو پھر کیا ہوا۔ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ میری شادی کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے۔ میں نے عرض کی: میرا گھوڑا ہے اور میرا اونٹ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک تمہارے گھوڑے کا تعلق ہے، تو وہ تمہارے پاس رہنا ضروری ہے البتہ جہاں تک تمہارے اونٹ کا تعلق ہے اسے تم فروخت کر دو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو میں نے 480 (درہم یا دینار) کے عوض میں اسے فروخت کر دیا میں وہ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹھی میں لیا اور فرمایا: اے بلال اس کے ذریعے تم ہمارے لیے خوشبو خریدو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک پلنگ بنوایا اور ایک تکیہ بنوایا جو چمڑے کا بنا ہوا تھا اس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم میرے آنے سے پہلے اس کے ساتھ کوئی بات نہ کرنا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر) آ گئیں، یہاں تک کہ وہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور میں دوسرے کونے میں بیٹھ گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہاں میرا بھائی ہے۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میرے پاس پانی لے کر آؤ، تو وہ گھر میں موجود پانی کے برتن کی طرف گئیں اور اس میں پانی لے آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اس میں سے ایک مرتبہ کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا آگے آؤ! وہ آگے بڑھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے اور سر پر وہ پانی چھڑکا اور یہ فرمایا: (یعنی یہ دعا کی) اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دوسری طرف رخ کرو انہوں نے دوسری طرف رخ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان بھی پانی چھڑکا اور فرمایا: (یعنی دعا کی) اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس پانی لے کر آؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے وہ کام کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے میں اٹھا اور میں نے وہ برتن پانی سے بھر لیا میں وہ برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا آگے آؤ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر اور سینے پر پانی چھڑکا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسری طرف رخ کرو، پھر میں نے دوسری طرف رخ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان پانی چھڑکا اور دعا کی۔ اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور برکت کے ہمراہ اپنی بیوی کے ساتھ رہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6944]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6905»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف الإسناد، منكر المتن.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن يعلى الأسلمي، أبو زكريا
Newيحيى بن يعلى الأسلمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ضعيف الحديث
👤←👥الحسن بن حماد الضبي، أبو علي
Newالحسن بن حماد الضبي ← يحيى بن يعلى الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥داود بن روزبه الفارسي، أبو شيبة
Newداود بن روزبه الفارسي ← الحسن بن حماد الضبي
صدوق حسن الحديث