صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
160. ذكر حمزة بن عبد المطلب عم رسول الله صلى الله عليه وسلم رضوان الله عليه-
- ذکر حمزہ بن عبد المطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا، رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت
حدیث نمبر: 7016
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيِّ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَدْرَبْنَا مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا قَفَلْنَا وَرَدْنَا حِمْصَ، فَكَانَ وَحْشِيٌّ مَوْلَى جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَدْ سَكَنَهَا وَأَقَامَ بِهَا، فَلَمَّا قَدِمْنَاهَا، قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ: هَلْ لَكَ فِي أَنْ نَأْتِيَ وَحْشِيًّا فَنَسْأَلَهُ عَنْ حَمْزَةَ: كَيْفَ كَانَ قَتْلُهُ لَهُ؟ قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَاهُ، فَإِِذَا هُوَ بِفِنَاءِ دَارِهِ عَلَى طِنْفِسَةٍ، وَإِِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِِلَيْهِ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: ابْنٌ لِعَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ نَاوَلْتُكَ أُمَّكَ السَّعْدِيَّةَ الَّتِي أَرْضَعَتْكَ بِذِي طُوًى، فَإِِنِّي نَاوَلْتُهَا إِِيَّاكَ وَهِيَ عَلَى بَعِيرِهَا فَأَخَذَتْكَ، فَلَمَعَتْ لِي قَدَمَاكَ حِينَ رَفَعَتْكَ إِِلَيْهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِِلا أَنْ وَقَفَتْ عَلَيَّ فَرَأَيْتُهَا فَعَرَفْتُهَا، فَجَلَسْنَا إِِلَيْهِ، فَقُلْنَا: جِئْنَاكَ لِتُحَدِّثَنَا عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ: كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: أَمَا إِِنِّي سَأُحَدِّثُكُمَا كَمَا حَدَّثْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، كُنْتُ غُلامًا لِجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ نَوْفَلٍ، وَكَانَ عَمُّهُ طُعَيْمَةُ بْنُ عَدِيٍّ قَدْ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَمَّا سَارَتْ قُرَيْشٌ إِِلَى أُحُدٍ، قَالَ لِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: إِِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ عَمَّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَمِّي طُعَيْمَةَ فَأَنْتَ عَتِيقٌ، قَالَ: فَخَرَجْتُ وَكُنْتُ حَبَشِيًّا أَقْذِفُ بِالْحَرْبَةِ قَذْفَ الْحَبَشَةِ قَلَّمَا أُخْطِئُ بِهَا شَيْئًا، فَلَمَّا الْتَقَى النَّاسُ، خَرَجْتُ أَنْظُرُ حَمْزَةَ حَتَّى رَأَيْتُهُ فِي عَرَضِ النَّاسِ مِثْلَ الْجَمَلِ الأَوْرَقِ يَهُزُّ النَّاسَ بِسَيْفِهِ هَزًا مَا يَقُومُ لَهُ شَيْءٌ، فَوَاللَّهِ إِِنِّي لأَتَهَيَّأُ لَهُ أُرِيدُهُ وَأَتَأَنَّى عَجْزًا، إِِذْ تَقَدَّمَنِي إِِلَيْهِ سِبَاعُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى، فَلَمَّا رَآهُ حَمْزَةُ، قَالَ: هَلُمَّ يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَهُ، فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّمَا أَخْطَأَ رَأْسَهُ، قَالَ:" وَهَزَزْتُ حَرْبَتِي، حَتَّى إِِذَا رَضِيتُ مِنْهَا، دَفَعْتُهَا عَلَيْهِ، فَوَقَعَتْ فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، فَذَهَبَ لِيَنُوءَ نَحْوِي، فَغُلِبَ، وَتَرَكْتُهُ وَإِِيَّاهَا حَتَّى مَاتَ"، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ حَرْبَتِي، ثُمَّ رَجَعْتُ إِِلَى النَّاسِ فَقَعَدْتُ فِي الْعَسْكَرِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي بَعْدَهُ حَاجَةٌ، إِِنَّمَا قَتَلْتُهُ لأُعْتَقَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ عُتِقْتُ .
جعفر بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبیداللہ بن عدی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت میں نکلے، ہم لوگوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے، جب ہم واپس آئے تو ہمارا گزر حمص سے ہوا، وہاں سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ موجود تھے جو سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، انہوں نے وہاں رہائش اختیار کی ہوئی تھی اور وہاں مقیم تھے، جب ہم ان کے ہاں آئے تو عبیداللہ بن عدی نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ ہم سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور ان سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کریں کہ انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو کیسے شہید کیا تھا؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو ہم لوگ روانہ ہوئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اپنے گھر کے باہر چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ایک عمر رسیدہ بوڑھے شخص تھے، جب ہم ان کے پاس آئے تو ہم نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سر اٹھا کر عبیداللہ بن عدی کی طرف دیکھا اور دریافت کیا: کیا تم عدی بن خیار کے بیٹے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تمہیں اس وقت دیکھا تھا جب میں نے بنو سعد قبیلے سے تعلق رکھنے والی تمہاری رضاعی ماں کو تمہیں پکڑایا تھا جس نے ذی طویٰ کے مقام پر تمہیں دودھ پلایا تھا، میں نے اس خاتون کو تمہیں پکڑایا تو وہ اپنے اونٹ پر سوار تھی، اس نے تمہیں پکڑ لیا جب میں نے تمہیں اس کی طرف بلند کیا تھا اس وقت تمہارے پاؤں میرے سامنے ظاہر ہوئے تھے، اللہ کی قسم! ابھی جب تم میرے سامنے آکر ٹھہرے تو میں نے تمہارے پاؤں دیکھے تو انہیں شناخت کر لیا، راوی کہتے ہیں: ہم ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم نے کہا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں بتائیں کہ آپ نے انہیں کیسے قتل کیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: میں تم دونوں کو اسی طرح بیان کروں گا جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بیان کیا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا: میں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ان کا چچا طعمہ بن عدی غزوہ بدر میں مارا گیا تھا، جب قریش احد کے لیے روانہ ہوئے تو جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا: اگر تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ کو قتل کر دیا میرے چچا طعمہ کے بدلے میں تو تم آزاد ہو گے، میں وہاں سے روانہ ہوا، میں ایک حبشی شخص تھا، میں حبشیوں کے مخصوص انداز میں چھوٹا نیزہ پھینکا کرتا تھا، کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ میرا نشانہ خطا جاتا، جب لڑائی شروع ہوئی تو میں اس بات کا جائزہ لینے لگا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کہاں ہیں، یہاں تک کہ میں نے انہیں لوگوں کے درمیان خاکستری اونٹ کی طرح دیکھا، وہ لوگوں کو اپنی تلوار سے پیچھے کر رہے تھے اور کوئی بھی چیز انہیں روک نہیں رہی تھی، اللہ کی قسم! میں ابھی ان کی طرف جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ میں اس بارے میں عاجز ہو گیا کیونکہ مجھ سے پہلے سباع بن عبدالعزیٰ ان تک جا چکا تھا، جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو وہ بولے: آگے آؤ اے عورتوں کے ختنہ کرنے والی عورت کے بیٹے! پھر انہوں نے اسے ضرب لگائی، اللہ کی قسم! انہوں نے اس کا سر اڑا دیا، سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنا نیزہ تیار کیا، یہاں تک کہ جب میرے حساب سے نشانہ ٹھیک ہوا تو میں نے اسے پھینک دیا، وہ ان کے پیٹ میں جا کے لگا یہاں تک کہ ان کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے باہر نکل گیا، انہوں نے میری طرف بڑھنے کی کوشش کی لیکن مغلوب ہو گئے، میں نے انہیں ایسے ہی رہنے دیا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، تو پھر میں ان کے پاس آیا اور میں نے اپنا نیزہ لے لیا، پھر میں لوگوں کی طرف واپس چلا گیا اور لشکر میں آکر بیٹھ گیا کیونکہ اس کے بعد مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، میں نے انہیں اس لیے قتل کیا تھا تاکہ مجھے آزاد کر دیا جائے، جب میں مکہ آیا تو مجھے آزاد کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7016]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4072، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7016، 7017، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16324» «رقم طبعة با وزير 6977»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4072).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7016 in Urdu
جعفر بن عمرو الضمري ← وحشي بن حرب الحبشي