🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
161. ذكر البيان بأن وحشيا لما أسلم أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يغيب عنه وجهه لما كان منه في حمزة ما كان-
- ذکر بیان کہ جب وحشی نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنا چہرہ ان سے چھپائے کیونکہ اس نے حمزہ کے ساتھ جو کیا وہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ وَكَانَ وَاحِدَ زَمَانِهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ السَّرَخْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ إِِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ، قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ: هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ، قَالَ: فَسَأَلْنَا عَنْهُ، فَقِيلَ لَنَا: هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ، كَأَنَّهُ حَمِيتٌ، قَالَ: فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلامَ، قَالَ: وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَةٍ مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِِلا عَيْنَيْهُ وَرِجْلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ: يَا وَحْشِيُّ، أَتَعْرِفُنِي؟ فَنَظَرَ إِِلَيْهِ، وَقَالَ: لا وَاللَّهِ، إِِلا أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، يُقَالُ لَهَا أُمُّ الْقِتَالِ بِنْتُ أَبِي الْعِيصِ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلامًا بِمَكَّةَ فَاسْتَرْضَعَهُ، فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلامَ مَعَ أُمِّهِ فَنَاوَلْتُهَا إِِيَّاهُ، فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِِلَى قَدَمَيْكَ، قَالَ: فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمّ قَالَ: أَلا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ، قَالَ: فَقَالَ لِي مَوْلايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعَمٍ: إِِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ، قَالَ: فَمَا أَنْ خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ، قَالَ: وَعَيْنَيْنُ جَبَلٌ تَحْتَ أُحُدٍ، بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِِلَى الْقِتَالِ، فَلَمَّا اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ، خَرَجَ سِبَاعٌ أَبُو نِيَارٍ، قَالَ: فَخَرَجَ إِِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: يَا سِبَاعُ، يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ، يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، تُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ قَالَ: ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ، فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ، قَالَ:" وَانْكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا أَنْ دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنَ وَرِكَيْهِ"، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ الْعَهْدُ بِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ، رَجَعْتُ مَعَهُمْ، فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ حَتَّى نَشَأَ فِيهَا الإِِسْلامُ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِِلَى الطَّائِفِ، قَالَ: وَأَرْسَلُوا إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلا، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: إِِنَّهُ لا يَهِيجُ الرُّسُلَ، قَالَ: فَجِئْتُ فِيهِمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنْتَ وَحْشِيٌّ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا بَلَغَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ عَنِّي وَجْهَكَ؟" ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ، قَالَ: قُلْتُ: لأَخْرُجَنَّ إِِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ، فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا كَانَ، قَالَ: وَإِِذَا رُجَيْلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ مَا نَرَى رَأْسَهُ، قَالَ: فَأَرْمِيهِ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ، قَالَ: وَدَبَّ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ الْبَيْتِ: إِِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَتَلَهُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ.
جعفر بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں عبیداللہ بن عدی کے ساتھ شام گیا، جب ہم لوگ حمص آئے تو عبیداللہ نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ ہم سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کے بارے میں دریافت کریں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ حمص میں سکونت پذیر تھے، ہم نے ان کے بارے میں دریافت کیا تو ہمیں بتایا گیا: وہ اپنے محل کے سائے میں موجود ہوں گے یوں جیسے وہ ایک بڑا برتن (مشکیزہ) ہوں۔ راوی کہتے ہیں: ہم وہاں آئے، ان کے پاس ٹھہر گئے، جب ہم نے سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ راوی کہتے ہیں: عبیداللہ نے اپنا عمامہ منہ پر لپیٹ لیا تھا، سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کو صرف ان کی دو آنکھیں اور دونوں پاؤں نظر آ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: عبیداللہ نے ان سے دریافت کیا: اے وحشی! کیا آپ نے مجھے پہچان لیا؟ انہوں نے ان کی طرف دیکھا اور بولے: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے صرف یہ علم ہے کہ عدی بن خیار نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی تھی جسے ام قتال بنت ابی عیص کہا جاتا تھا، اس عورت نے مکہ میں اپنے بچے کو جنم دیا، تو اس کے لیے دودھ پلانے والی کی تلاش کی گئی، میں نے اس لڑکے کو اٹھایا اور اس کی والدہ کے ہمراہ (دودھ پلانے والی کے پاس) گیا، میں نے وہ بچہ اسے پکڑایا، تو مجھے یوں لگ رہا ہے کہ وہ تمہارے ہی پاؤں ہیں (جو اس بچے کے تھے)۔ راوی کہتے ہیں: عبیداللہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور پھر بولے: کیا آپ ہمیں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں نہیں بتائیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں طعمہ بن عدی کو قتل کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں، تو میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا: اگر تم نے میرے چچا کے بدلے میں حمزہ کو قتل کر دیا تو تم آزاد ہو گے۔ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ نے بتایا: جب عینین کے سال لوگ نکلے (راوی کہتے ہیں: عینین ایک پہاڑ ہے جو احد پہاڑ کے نیچے ہے، یعنی یہ غزوہ احد کے موقع کی بات ہے، ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک وادی ہے)۔ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں بھی لوگوں کے ساتھ جنگ کے لیے نکلا، جب انہوں نے جنگ کے لیے صف بندی کر لی تو سباع بن ام انمار نکلا، تو اس کے مقابلے میں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے کہا: اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! اے عورتوں کے ختنہ کرنے والی عورت کے بیٹے! کیا تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہے؟ راوی کہتے ہیں، تو انہوں نے اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیا۔ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں رہا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ وہ میرے پاس سے گزرے، جب وہ میرے قریب ہوئے تو میں نے انہیں اپنا چھوٹا نیزہ مارا، میں نے وہ نیزہ ان کے پیٹ میں مارا، یہاں تک کہ وہ ان کی پشت کی طرف سے باہر نکل گیا۔ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں: میرا معاہدہ صرف اتنا ہی تھا، جب وہ لوگ واپس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا، میں مکہ میں مقیم رہا، یہاں تک کہ وہاں بھی اسلام پھیل گیا تو میں طائف چلا گیا۔ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام رساں بھیجے کیونکہ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی پیغام رساں کو قتل نہیں کرتے، میں ان پیغام رساں افراد میں شامل ہو کر آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: تم وحشی ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا؟ میں نے جواب دیا: صورت حال وہی ہے جو آپ تک پہنچ چکی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لو (یعنی آئندہ میرے سامنے نہ آنا)؟ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے نکلا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا، میں نے سوچا میں مسیلمہ کی طرف ضرور جاؤں گا، ہو سکتا ہے میں اسے قتل کر دوں، تو اس طرح میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدلہ چکا دوں گا۔ میں لوگوں کے ساتھ نکلا، ان کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہوا (یعنی جنگ کے دوران)، میں نے ایک چھوٹے قد کے شخص کو دیکھا جو ایک دیوار کے پاس کھڑا ہوا تھا، وہ خاکستری اونٹ لگتا تھا، میں نے اسے اپنا نیزہ مارا، وہ اس کے سینے کے درمیان آ کر لگا اور دونوں کندھوں کے درمیان میں سے نکل گیا۔ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اس کی گردن پر تلوار مار دی۔ یہاں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: گھر کی چھت پر ایک لڑکی نے کہا: امیر المؤمنین (یعنی مسیلمہ کذاب) کو ایک سیاہ فام غلام نے قتل کر دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7017]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4072، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7016، 7017، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16324» «رقم طبعة با وزير 6978»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وحشي بن حرب الحبشي، أبو حرب، أبو دسمةصحابي
👤←👥جعفر بن عمرو الضمري
Newجعفر بن عمرو الضمري ← وحشي بن حرب الحبشي
ثقة
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← جعفر بن عمرو الضمري
ثقة
👤←👥عبد الله بن الفضل القرشي
Newعبد الله بن الفضل القرشي ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، أبو عبد الله، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ← عبد الله بن الفضل القرشي
ثقة فقيه مصنف
👤←👥حجين بن المثنى اليمامي، أبو عمر
Newحجين بن المثنى اليمامي ← عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون
ثقة
👤←👥محمد بن مشكان السرخسي
Newمحمد بن مشكان السرخسي ← حجين بن المثنى اليمامي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الدغولي، أبو العباس
Newمحمد بن عبد الرحمن الدغولي ← محمد بن مشكان السرخسي
حافظ ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 7017 in Urdu